وہ حرام مال کماتا ہے اور اِس کی وجہ یہ بتاتا ہے کہ حلال کی کمائی ممکن نہیں ہے، اور اگر ہے تو بہت کم،بلکہ کم کم ،اور جب وہ حرام مال گھر میں لاتا ہے تو اُسے یاد آتا ہے کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ اِنسان سے اُس کے مال اور اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ وہ مذہبی خیال سے دُور بھاگتا ہے اور مذہب اُس کے اپنے اندر سے آواز دیتا ہے: ”خبردار! تم بھاگ کر کہاں جاؤ گے۔ مَیں تمہارے ضمیر میں ہوں،تمہارے خون میں ہوں،تمہارے خمیر میں ہوں۔ غافل! بھاگنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ ٹھہر جا اور غور کر۔ یتیم کا مال واپس کر دے۔ دیکھ! اپنے بچوں کو آگ نہ کھِلا۔ یہ ناجائز کمائی تیری اولاد کے لیے آگ ہے۔ تیرے معصوم بچوں نے تیرا کیا بگاڑا ہے۔ اِن معصوموں پر رحم کھا۔ اِنہیں عذاب کا لقمہ نہ کھلا۔ رشوت کی دولت تیرے لیے، تیری اولاد کے لیے ایک عذاب ہے۔ باز آ— نادان! عقل کر! “ —لیکن نادان کیسے عقل کرے۔ مذہب کیا بتائے؟
مذہب نے زندگی میں بڑے اِنقلاب بپا کیے ہیں۔ اَمیر آدمی کو مذہب بڑا راس آیا ہے۔ وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مہربانیاں حاصل کرتا ہے۔ مال جمع کرتا ہے اور بہت زیادہ جمع کرتا ہے۔ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور صرف شکر ہی ادا کرتا ہے،مال تقسیم نہیں کرتا۔ وہ غریبوں کو توکّل کی دولت سے مالا مال دیکھنا چاہتا ہے۔ غریب کو صبر اور استقامت کا درس دیتا ہے،اُسے مال نہیں دیتا۔ وہ بیمار کے لیے دُعا کرتا ہے،اُسے دوائی نہیں دیتا اور خود بڑے بڑے ہسپتالوں میں داخل خارج ہوتا رہتا ہے۔ اُس کے جسم سے خوشبو آتی ہے۔ اُس کا لباس عطر میں ڈوبا ہے اور دِل فکر میں! اُسے معلوم ہے کہ جسے وہ مذہب سمجھ رہا ہے ،وہ مذہب نہیں ہے۔ وہ مذہب کا لبادہ ہے۔ وہ جانتا ہے کہ سچا مذہب لبادوںاور نقابوں سے آزاد ہے۔
آج مذہب پر گفتگوہوتی ہے بلکہ ”گفتگوئیں “ ہوتی ہیں۔ ٹی وی پر افہام و تفہیم کے ذریعے مفہومِ دین بتایا جاتا ہے اور کسی مبلّغ کی بات کسی اور مبلّغ کی بات سے ملتی نہیں۔ شاید سب سچّے ہیں۔ سب سچّے ہیں؟ سب کیسے سچّے ہو سکتے ہیں۔ کچھ لوگ سچّے ہیں اور کچھ لوگ جھوٹے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ایک مذہب میں کچھ لوگ سچّے اور کچھ لوگ جھوٹے — پھر! کیا سارے جھوٹے ہیں؟ نعوذ باللہ! اللہ ہمیں ہمارے نفس کے شر سے بچائے۔ ہم کیوں جھوٹ بولیں۔ آخر ایک دن ہمیں مرنا ہے اور پھر” موت کا منظر— مرنے کے بعد کیا ہو گا؟“ اللہ کی رحمتوں اور رحمتوں والے نبیؐ کی رحمتوں کوماننے والے کے لیے مرنے کا منظر اور موت کا منظر رحمت ہی رحمت ہے،لیکن کون مانے۔ مذہب والوں کو یہ بات کیسے سمجھ آئے!
کیا اللہ کی رحمت اُس کے غضب سے وسیع نہیں ہے؟ کیا حضورؐ رحمۃ للعالمین نہیں ہیں؟ مرنے کے بعد کا عالم— آپؐ کی رحمت!
اگر رحمت اعمال کے نتیجے سے انسان کو نہ بچائے تو رحمت کا تصور کیا ہے؟ کیا اللہ معاف کرنے پر قادر نہیں ہے؟ کیا مذہب والے اور مذہب سے انکار کرنے والے دوزخ میں کبھی اکٹھے ہوں گے؟ اگر ہوئے تو کافر،مذہب والوں کا مذاق اُڑائیں گے کہ تم ہمیں کس نجات کی دعوت دیتے تھے؟ خیر چلو،اِس بات پر کیا بحث۔ جو ہو گا،ہو جائے گا۔ جو کچھ کر رہے ہو،کرتے جاؤ— بس مذہب کے نام پر ہونا چاہیے۔