ہم ایک یا کسی ایک مذہب کی بات نہیں کر رہے، ہم تو عام طور پر مذہب کی بات کر رہے ہیں۔ اگر اِنسان کا باطن صادق نہ ہو تو صداقت کا مذہب اُسے کوئی فلاح نہیں دیتا۔
اگر کسی کو زندگی کی آسانیوں میں شریک نہیں کرتے تو صرف علم میں شریک کرنے کا فائدہ؟ وہ علم تو بتاؤ جس کے ذریعے تم اِتنے اَمیر ہو اور تمہارا پڑوسی غریب ہے،جبکہ تم دونوں ایک ہی دفتر میں ملازم ہو،ایک ہی تنخواہ پر!!
مذہب پر بحث نہیں ہونی چاہیے۔ چلو اِسی بات پر اتفاق کر لو کہ آئندہ مذہب پر بحث اور مذاکرے نہ ہوں۔ مذہب بتانے والی بات نہیں، کرنے والا کام ہے۔ بات سچی ہے ،اور کام؟ کون جواب دے گا!
جب شروع میں کوئی کافر حضور اکرمؐ کے پاس قبولِ اِسلام کے لیے حاضر ہوتا تو آپؐ اُسے کلمہ شریف پڑھاتے اور وہ مسلمان ہو جاتا۔ اگر وہ سوال کرتا کہ اب مجھے کیا کرنا ہے تو اُسے جواب ملتا کہ جو مسلمان کر رہے ہیں، وہی کرو۔ جہاد کا وقت ہے تو تیاری کرو اور اگر امن کا زمانہ ہے تو رزقِ حلال کماؤ،محنت کرو،عبادت کرو۔ کسی سے یہ نہیں کہا گیا کہ اب تم کتابیں پڑھو،تقریریں کرو۔
آج مذہب پر لائبریریاں بھری ہوئی ہیں اور اِنسان کا دل خالی ہے۔ مذہب علم نہیں،عمل ہے اورعمل کی انتہا یہ ہے کہ وہ انسانِ کاملؐ جو سب میں افضل ہیں، اُن کی زندگی سب سے زیادہ سادہ،سب سے زیادہ غریب — اور یہی ہے سب سے زیادہ بلندی۔ مذہب یہ ہے کہ خود پیاساہونے کے باوجود اپنے پیاسے بھائی کو پانی کا واحد پیالہ پیش کر دے اور خود جامِ شہادت نوش کر لے۔