رابطہ یہ نہیں کہ پوسٹ بکس نمبر بتا دیا جائے۔ رابطہ اُس خیال کا نام ہے جو کسی قاری کے دل میں مصنّف کے بارے میں پیدا ہو۔ دل میں پیدا ہونے والا خیال ہی رابطہ ہے۔ اظہار میں آئے یا نہ آئے، رابطہ ہی کہلائے گا۔

اگر ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا،اُس نے آپ کو دیکھا اور خاموشی سے آپ کی زندگی اور آپ کی حفاظت کے بارے میں دُعا کر دی تو اُس سے دِل  کا رابطہ قائم ہو گیا۔ ہزارہا رابطے خاموشی سے پلتے رہتے ہیں، کوئی کوئی رابطہ ظاہر ہوتا ہے۔ ماں کا رابطہ، اپنے بچے کے پیدا ہونے سے پہلے بھی ہوتا ہے۔ وہ بچے کے خیال میں سوتی ہے،اُسی کے خیال میں جاگتی ہے۔ اُس کے خواب،اُس کی بیداری،اُس کے پروگرام،اُسی آنے والے بچے کے حوالے سے بنتے رہتے ہیں۔ پردیس جانے والے، اپنے دیس کے رابطے میں رہتے ہیں۔ عمر پردیس میں کٹتی ہے اور رابطہ وطن میں رہتا ہے۔ ماں کی دُعائیں رابطے کی شکل ہیں۔

ہم لوگ بعض اوقات یہ دریافت کرنے سے قاصر رہتے ہیں کہ کس کا    کب، کیسے اور کہاں رابطہ ہو گیا۔ استاد کی بات، اُس کا دیا ہوا علم جب تک قائم رہے، اُستاد سے رابطہ ہے۔ استاد فوت ہو جائے تب بھی رابطہ ہے۔ اسی لیے معلّم کی قدر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور جو ذات معلّمِ اخلاق ؐہے، اس کا رابطہ کبھی ٹوٹ ہی نہیں سکتا۔

رابطے دلوں میں پلتے ہیں۔ محبّت  صرف رابطے کا نام ہے۔ ایک آدمی نے دوسرے انسان کو پسند کیا۔ آنکھوں نے چہرہ دیکھا، دل نے قبول کیا، روح نے استقبال کیا، رابطہ مستقل ہو گیا۔ ہمارے غم اور  ہماری خوشیاں اسی رابطے کی روشنی میں چلتے اور پلتے رہتے ہیں۔ وہ پرندے جو سرد علاقوں سے گرم علاقوں کی طرف ہجرت کرتے ہیں، وہ برفوں میں چھوڑے ہوئے اپنے انڈوں سے بھی رابطہ رکھتے ہیں اور یہاں تک بھی کہا جاتا ہے کہ اپنے دل اور اپنی نگاہ کی گرمی سے انڈوں کو گرم رکھتے ہیں، انہیں سیتے ہیں۔

دنیا میں نظر آنے والی حرکت رابطوں کی تفسیر ہے۔ بندے کا رابطہ خدا کے ساتھ، چاہے اس کا اظہار ہو یا نہ ہو، قائم رہتا ہے۔ مالک ہونے کی حیثیت سے زندگی دینے والا، زندگی واپس لے لے، تب بھی رابطہ قائم رہتا ہے۔ وہ ہر حال میں آپ کی سانسوں میں ہے۔ آپ کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ اُس کے رابطے اُس کی ذات کی طرح پُراَسرار اور پُرتاثیر ہوتے ہیں ۔ایک رابطہ جو ہم خدا کے ساتھ رکھتے ہیں اور ایک رابطہ جو خدا ہمارے ساتھ رکھتا ہے۔

Pages: 1 2 3