یہ زندگی رابطوں کی داستان ہے — رابطے ہی رابطے،لطف ہی لطف، رونق ہی رونق! رابطوں کو نہ ماننے والے شاید اِس حقیقت کو نہ سمجھ سکیں، لیکن یہ ایک اَمر واقعہ ہے کہ ہم ماضی میں زندہ ہیں، ہم حال میں زندہ ہیں، ہم مستقبل میں زندہ ہیں۔ یہ ہزار ہا لائبریریاں ماضی کے مصنفوں کے ساتھ ہمارے رابطوں کی داستانِ دلنشیں ہے۔ اگر مصنّف فانی تھا، مر گیا۔ اُس کا ذکر ضروری نہیں، تو پھر اُس کی کتاب کیا ہے؟ کتاب مصنّف کے پاس لے جاتی ہے، اُس کے دل میں لے جاتی ہے، اُس کے دماغ میں لے جاتی ہے اور ہم اُس رابطے سے اکتسابِ فیض کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں کسی مصنف کو نہیں مانتا، کسی کی ”کیمیائے سعادت“ کو نہیں مانتا، یا کسی ”نہج البلاغہ“ کو نہیں مانتا،یا کسی ”کشف المحجوب“ کو نہیں مانتا کہ اُن کے مصنّف مر گئے، ختم ہو گئے، تو اَدب سے یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ قرآن کو زندہ کلام کیسے مانتے ہو اور حدیث کو زندہ کلام کیسے مانتے ہو؟
حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز، ہر گزری ہوئی چیز، اِتنی زندہ ہے کہ اندازہ کرنا مشکل ہے۔ کسی آدمی کا باپ فوت ہو جائے، قبر میں دفن ہو جائے، اگر وہ گزر گیا، ختم ہو گیا تو قبر کیا ہے اور کیوں ہے؟ اگر قبر صاحبِ مزار کے نام سے موسوم ہے تو ہر مزار اپنے صاحب ِ مزار کے ساتھ رابطے کا ذریعہ بنتا ہے۔
ہم اِنہی رابطوں میں پلتے ہیں،انہی رابطوں پر چلتے ہیں،یہی رابطے ہماری سند ہیں، یہی رابطے ہماری گزرگاہِ خیال کے راستے ہیں — انہی شاہراہوں پر وقت کے قافلے چلتے رہے۔ وہ قافلے کہیں غائب نہیں ہو گئے، کہیں عنقا نہیں ہو گئے، کہیں معدوم نہیں ہو گئے۔ وہ سارے، زمانے کے چہرے پر اپنے نقش مُرتسم کر گئے۔
تاریخ ماضی سے رابطہ ہے اور مذہب — مذہب تو ہے ہی رابطے کا نام۔ ہم کلمہ پڑھتے ہیں اور شکر ادا کرتے ہیں کہ اُس نے ہمیں کلمہ پڑھنے والابنایا، ہم کو ایمان عطا فرمایا اور ہمیں ایک ایسے نبیِ معظّمؐ پر ایمان لانے کی سعادت بخشی جو آج سے بہت عرصہ پہلے تشریف لائے۔ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ حضورِ اکرمؐ اپنے زمانے تک موجود تھے اور اُس کے بعد نعوذباللہ موجود نہیں ہیں تو سوچنا پڑے گا کہ صحابہ کرامؓ نے جو کلمہ پڑھا اور جو کلمہ ہم پڑھ رہے ہیں، اُس میں بنیادی فرق ہے۔ حضورِ اکرمؐ کی زندگی اور موجودگی میں حضورؐ پر ایمان لانا ایک دیکھی ہوئی بات تھی۔ آج جب وہ ذاتؐ ہمارے درمیان اُس حالت میں موجود نہیں ہے تو ہم اُس کا کلمہ اُس یقین سے کیسے پڑھیں، اُس کی شہادت اتنے وثوق سے کیسے دیں جو اُن لوگوں کے پاس تھی، جو آپؐ کے زمانے میں تھے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ ہم بھی جو کلمہ پڑھتے ہیں، ہم اپنے آپ کو حضورؐ کے اتنا ہی قریب مانتے ہیں جتنا وہ لوگ مانتے ہیں، کیونکہ رابطہ جغرافیائی نہیں، تاریخی نہیں، وجودی نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی رابطہ ہے۔ وہ رابطہ آج بھی اتنا ہی قوی ہے، اتنا ہی لافانی ہے، جتنا پہلے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کلمہ پڑھنے والا، کل کے کلمہ پڑھنے والے کے برابر ہے۔
جن لوگوں کے زمانے میں نزولِ قرآن ہوا، انہوں نے دیکھا کہ کس طرح نزول کی کیفیات پیدا ہوئیں۔ ہمارے سامنے یہ واقعہ نہیں ہوا، لیکن ہمارا ایمان اتنا ہی قوی ہے کہ یہ کلام، اللہ کا کلام ہے، جبریلِ امین کا لایا ہوا، ہمیشہ رہنے والا،حضورِ اکرمؐ کی زبان سے نکلا ہوا —اور یہ کلام ہمیشہ ہی اپنی تمام تقدیس کے ساتھ محفوظ اور قائم رہے گا۔ لوگوں نے اِس رابطے کے بارے میں بہت سے شبہات پھیلائے ہوئے ہیں۔ اِس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ حضور پاکؐ اللہ کے رسول ہیں، ہمیشہ کے لیے ہیں، اور جو ”ہیں“، انہیں ”تھے“ نہیں کہہ سکتے۔ سچ تو یہ ہے کہ جس ذاتؐ پر نزولِ کلام مجید ہو، وہ ذاتؐ کم نہیں ہے مقدّس کتاب سے۔ حضورؐ کے رابطے کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ کلمہ ہی رابطہ ہے اور رابطہ ہی کلمہ ہے۔
ہر اسم اپنے مسمّٰی کے ساتھ رابطہ رکھتا ہے اور یہ رابطہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ ہم جس اِسم کو پکارتے ہیں، اُس کے مسمّٰی تک ہماری پکار پہنچتی ہے اور ہمیں جواب ملتے ہیں۔ یہاں تک کہ انسان کی اصلاح بھی اور اُس کا عرفان بھی، اِن رابطوں کا مرہونِ منّت ہے۔ روح، روح کو گائیڈ کر سکتی ہے۔ اب تو مغرب اور سائنس زدہ مغرب نے بھی روحانی رابطوں کو تسلیم کر لیا ہے۔ انسان ایک ماحول میں رہتا ہے اور ممکن ہے اس کے رابطے کسی اور ماحول سے ہوں۔ دل کی باتیں دل والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ روح کی دنیا روح والے ہی پہچانتے ہیں۔ راز کا عالَم راز جاننے والوں پر آشکار ہوتا ہے۔ اگر ماضی کے رابطے ختم کر دیے گئے تو کسی مستقبل پر اِیمان لانا ممکن ہی نہیں ہو سکتا۔