ہم دیکھتے ہیں کہ قوم بزرگوں کے دن مناتی ہے۔ اُس دن بزرگ لوگ اپنی عارضی رخصت کے باوجود اپنے دنوں کے منائے جانے کا لطف حاصل کرتے ہیں۔ قائدِ اعظمؒ کے مزار پر حاضری دینا قائدؒ کی روح کو سلام ہے اور اُن کے لیے آسودگی کا پیغام۔ اسی طرح باقی لوگوں کے آستانوں پر ہماری حاضریوں کا عالَم ہے۔ انسان سوچ سمجھ کر غور کے ساتھ اپنے رابطوں کو دریافت کرے، اپنے رابطوں کی حفاظت کرے اور اپنے رابطوں سے ہو سکے تو قوم کو آگاہ کرے۔  اقبالؒ نے پیرِ رومیؒ سے رابطہ کیا، حالانکہ پیر ِرومیؒ    کوئی زندہ انسان نہیں تھے اورپیرِ رومیؒ  کا فیض اقبالؒ کے اندر بولا۔ قوم نے دیکھا، قوم نے سوچا، قوم نے فیصلے کیے، فیصلے کامیابیوں سے سرفراز ہوئے اور آج وہی فیصلے ہمارے” ہم“ ہونے کا جواز ہیں۔

غور سے دیکھنے والی بات ہے کہ اگر آپ کوئی اچھی بات کہیں، اچھا کلام تحریر کریں تو آپ کے لیے ہزارہا  اُٹھے ہوئے ہاتھ آپ کی صحت اور زندگی کی دُعا کے لیے تیار ہوں گے۔ کسی کا نام نہیں معلوم، کسی کا چہرہ نہیں دیکھا، لیکن اُن سے رابطہ ہے، اُن کا آپ سے رابطہ ہے۔ رابطے آپ کو تقویت دے رہے ہیں اور آپ اسی تقویت سے اپنے سفر پر گامزن ہیں۔

خدا ہمارے روحانی رابطوں کی حظاظت فرمائے۔ انہیں ہمارے لیے دُعا دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں اُن کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے استادوں کی خیر، ہمارے بزرگوں کی خیر، ہماری تاریخ کی خیر — اور ہمیں ایمان کی دولت عطا فرمانے والوں کی خدمت میں سجدۂ نیاز!!

Pages: 1 2 3