رِفعت ِخیال پستیِ حیات میں پیدا نہیں ہوسکتی۔ پاکیزگیِ افکار کے لیے پاکیزگیِ کردار کا ہونا لازمی ہے۔حُسن ِ خیال کسی کوشش کا نام نہیں، کسی جستجو کا مقام نہیں، محض تمنّائے تخیل یا حصولِ تخیل کا ذریعہ نہیں۔ اَرفع خیال عنایت ہے،عطا ہے، فضل ہے اور یہ عطا گنہگار اور خطا کار کے لیے قطعاً نہیں — لطافت ِخیال کو اگر جبریل کہہ دیا جائے تو نزولِ افکارِ عالیہ یا نزولِ جبریل کسی کافریاگمراہ کے لیے نہیں۔ جبریل ماننے والوں اور مقدّس نفوس کو دولت ِاَفکار کے خزانے مہیا کرتا ہے۔ ناپاک زندگی پاکیزہ خیال سے محروم رہتی ہے۔
رِفعت ِخیال کو جاننے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ پستیِ حیات کیا ہے؟ وہ کون سا اندازِ حیات ہے جس کے نصیب میں تخیل کی بلندی یا رِفعت ِخیال نہیں ہے۔
لالچ یا لوبھ انسان کی زندگی کوپست کر دیتا ہے۔ اَشیاء کا حصول،مال کی تمنّا،مرتبوں کی حسرت،اِنسان کو اور اِنسان کے باطن کو صحرا کی ویرانیاں عطا کرتے ہیں۔ لالچ زدہ دِل ہمیشہ خوف زدہ رہے گا۔ خوف کبھی بلند پرواز نہیں ہو سکتا۔ لالچ ظاہر کی زندگی پر زور دیتا ہے اور خیال باطن کا عروج ہے۔ لالچی انسان کے نصیب میں باطن آشنائی نہیں ہوتی۔ اشیاء کا حصول،اَشیاء کی محبّت،اشیاء کی نمائش،اشیاء کا غرور فنا کے دیس کی باتیں ہیں اور بلند افکار یا بلندیِ نگاہ بقا کی بستی کے نشانات ہیں۔ فنا،فنا ہے، بقا،بقا—یعنی خیال کی بلندی بقا کی دنیا ہے اور بقا کا سفر اُس وقت تک نا ممکن ہے،جب تک فنا اور فنا کی محبّت سے آزادی نہ حاصل کر لی جائے۔
جب اِنسانوں کا گھر سامان سے بھرا ہوا ہو،دِل تمنّاؤں سے بھرا ہوا ہو،پیٹ خوراک سے بھرا ہوا ہو تو ایسی حالت میں ذہن کا خالی ہونا لازمی ہے۔ پیسہ گننے والا،خیال کی بلندیوں کو کیا جانے۔ بلند خیال انسان اشیاء کے حصول اور اپنے حصول پر غرور سے آزاد ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر مکان اپنے مکینوں کی پہچان ہے تو مکین مر چکے ہیں۔ اُن کا ہونا،نہ ہونے کے برابر ہے۔ اُن کا اپنا مکان اُن کے اپنے آپ سے زیادہ اہم ہے۔ اُن کا حاصل اُن کی اپنی زندگی سے زیادہ ضروری ہے۔ بس یہی رکاوٹ ہے بلند خیالی میں —! بلند خیال انسان اپنے مکان کی خود پہچان ہے۔ وہ جہاں بھی رہے،وہ جگہ اُس کے دَم سے پہچانی جائے گی۔ بلند خیال مکین اپنے مکان کی خود ہی زینت ہے۔ اُسے کسی اور شے کی ضرورت نہیں،جس سے مکان کو سجایا جائے۔ اُس نے اپنے مکان کو اپنی ذات سے عزت بخشی اور اپنے آپ کو بلند خیالی سے معزز کیا۔ وہ اِس دنیا میں رہتے ہوئے کسی اور دُنیا میں رہتاہے۔ پست خیال اِنسان اپنے وجود کو پا لتا ہے اور بلند خیال اِنسان اپنے وجود کو اُجالتاہے۔ وہ خود سوزِ دوام کے سفر پر رہتا ہے۔
پست خیال اِنسان آکاس بیل کی طرح خود پھیلتا ہے اور دُوسروں کو پھیلنے سے روکتا ہے۔ وہ دُوسروں کو اُن کے حقوق سے محروم کر کے اپنے نفس کی تسکین چاہتاہے۔ بلند خیال اِنسان شمع کی طرح جلتا ہے اور روشنی دیتا ہے— جلتا ہے، روشن رہتا ہے۔ بلند خیالی روشنی ہے۔ وہ روشن رہتا ہے، روشن کرتا ہے اور پھر اپنے اصل کی طرف، یعنی نور کی طرف، رجوع کر جاتا ہے۔ اُس کی زندگی دُوسروں کے لیے ہے اور دُوسروں کا دُکھ اپنے لیے۔ وہ بلند خیال ہے۔ پست خیال کو ہم خیال بنانا اُس کا دِین ہے، اُس کا مذہب ہے، اُس کا منصب ہے۔