ہر پست خیال خود غرض ہوتا ہے اور ہر بلند خیال بے غرض!  بہر حال حصول اور وصول کی تمنّا اِنسان کو پستی میں جکڑ دیتی ہے۔ پست اِنسان سے اگر اللہ پوچھے کہ تم کو بہشت میں بھیجوں یا دوزخ میں تو فوراً کہہ اُٹھے گا:”جناب !جہاں دو پیسے کا فائدہ ہو،وہیں بھیج دو!! “ ”فائدہ“ پست اِنسان کا پسندیدہ شغل ہے۔ وہ ہر بات میں فائدہ تلاش کرتا ہے،ہر کام میں فائدہ!!  وہ فائدے حاصل کرتارہتا ہے اور زندگی ضائع!   فوری فائدہ اُس کواصل فائدے سے متعارف ہی نہیں ہونے دیتا۔اصل فائدہ — زندگی آسان ہو،سادہ ہو، پُرسکون ہو،اندیشوں سے آزاد ہو، دشمنوں سے نجات ہو،زندگی بھی آسان ہو اور موت بھی آسان ،یہ زندگی بھی آسان اور وہ زندگی بھی آسان—!

پستیِ اَفکار  مابعد کو فراموش کر دیتی ہے۔ انسان اپنا مستقبل محفوظ کرنا چاہتا ہے لیکن مستقبل قریب،یعنی اپنے ہونے تک کا مستقبل— حالانکہ اُس کا مستقبل،اُس کا قریب کا مستقبل،اُس کا مابعد،قریب کا مابعد،اُس کی اولاد بھی ہے۔

اَولاد بھی اِنسان کا مابعد ہے،قریب کا مابعد۔ بلند خیال اِنسان اپنے اِس مابعد کو بھی توجہ دیتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ بلند خیال یا بلندیِ خیال یا رفعت ِخیال وراثت نہیں چھوڑتا، لیکن بلند فکری کا اصل نقطہ اصلاحِ فکر ہے۔ صاحبِ خیال اپنی اولاد سے مقابلہ نہیں کرتا— حصولِ اشیاء کا مقابلہ۔ وہ اپنی اولاد کو دعوتِ نگاہ دیتا ہے، دعوتِ خیال دیتا ہے۔ اَولاد کو اُس کی فطری صلاحیتوں کے بیدار کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر بیٹا  باپ کی فکر، باپ کے تخیل اور باپ کے حُسن ِ خیال کا شاہد نہ ہو تو دونوں کا مابعد خطرے میں ہے،لیکن ایک استثناء کے ساتھ۔ اگر باپ نوحؑ ہو تو بیٹا —  باپ کے حسن ِ خیال سے محروم بیٹا—طوفان کی نذر ہو گا۔ باپ کی دُعا اُسے بچا نہیں سکتی! اگر بیٹا ابراہیم ؑ ہو تو اپنے حُسنِ خیال کے وثوق سے باپ کو دعوت دے اور اِنکار کی صورت میں صنم خانۂ آذری تباہ و برباد ہو جائے!

                بہر حال حُسن ِ خیال دعوتِ خیال ہےاور یہ دعوت محبّت اور ہمدردی سے دی جاتی ہے۔  لوگوں کو آنے والے زمانوں کی طرف اِشارے کیے جاتے ہیں۔ گزرے ہوئے زمانے دُہرا کر سنائے جاتے ہیں۔ لوگوں کی ہوس پرستی اور ذات پرستی،یعنی خود پرستی کے خوف ناک نتائج سے آگاہ کرنا   بلند نظری کا مطمح ِنظر ہوتا ہے۔ غیروں کو محبّت سے دعوت دی جاتی ہے۔ اپنوں کو صرف اطلاع ہی کافی ہے ،اور اگر اپنے قبول نہ کریں تو اپنے —کیسے اپنے! جدا کر دیے جاتے ہیں!!  بہر حال بلند خیالی کی بات ہو رہی ہے۔ بلند خیالی کی وضاحت کیا ہے؟ وہ کیا شے ہے،جسے بلند خیالی کہا جا سکتا ہے؟

                کیا بلند خیالی یہ ہے کہ زمین پر بیٹھ کر آسمان کی باتیں سوچی جائیں ؟ نہیں، قطعاً نہیں، بلکہ اِس کے  بالکل برعکس بلند خیالی یہ ہے کہ زمین پر بیٹھ کر یہ نہ بھولنا کہ ہم زمین پر بیٹھے ہیں اور زمین پر بیٹھنے والے خواہ کتنا ہی اکڑ اکڑ کر چلیں،آخر زمین کے اندر سماجاتے ہیں۔ مطلب یہ نہیں کہ ہم زمین پر چلنا چھوڑ دیں،اِس لیے کہ اِس کے اندر سما جانا ہے،نہیں،قطعاًنہیں۔ صاحبانِ خیال اپنے اعمال کا خیال رکھتے ہیں۔ وہ اتنا بوجھ اٹھاتے ہیں جس سے سفر آسان رہے۔ ہر شے ہروقت حاصل کرنے کی تمنّا  لاحاصل ہے۔رفعت ِخیال ایثار میں پلتی ہے۔ ایثار،دراصل فروغِ خیال کا واحد ذریعہ ہے—مجبوری ہے۔

Pages: 1 2 3