مجبوری یہ ہے کہ رفعت ِخیال خوش خیالی یا خوش فہمی نہیں ہے۔رفعت ِخیال اظہار میں ضرور آتی ہے اور اِس اظہار سے لوگوں کے لیے منفعت ہے۔ صاحب ِ خیال کے لیے خیال صرف سوز ہے،وجدان ہے۔ خیال،خیال نہیں ہے،جذبہ ہے۔ سورج کے پاس دُنیا کے لیے روشنی ہے،اپنے لیے آگ —آگ —اَلاؤ —تپش —سوز —جلنا اور مسلسل جلنا! —تو مجبوری یہ ہے کہ اگر اِنسان بخیل ہو تو اُسے رفعت ِخیال کیسے مل سکتی ہے۔اُسے سورج کون بنائے گا جو روشنی دینے سے اِنکار کرے! مزاج میں سخاوت اور ایثار نہ ہوتو کبھی رفعت ِخیال نہیں مل سکتی— ! رفعت ِخیال اپنے پاس رہے تو خیال نہیں رہتا۔ اپنا خیال دینے سے اپنا کہلاتا ہے۔
مجبوری یہ ہے کہ زندگی کے تمام اثاثوں میں،تمام خوبیوں میں،تمام حاصل میں سب سے قیمتی،سب سے اعلیٰ شےحسن ِ خیال ہے۔ جو شخص کسی کو اپنامال،جو خیال کے مقابلے میں کم تر اَثاثہ ہے،نہیں دے سکتا،وہ کسی کو بلند خیالی کیسے دے گا!— اور بلندیٔ خیال نہ دینے والا بلندیٔ خیال رکھ نہیں سکتا،یعنی جس کے مزاج میں دینا نہیں ہے،اُس کے نصیب میں بلند خیالی نہیں۔ تم مال تقسیم نہیں کرتے،خیال کیسے بانٹو گے؟ — یہی مجبوری ہےاور اِس کا علاج یہ ہے کہ اپنے حاصل کوتقسیم کرو،اپنے حال میں شریک کرو،اپنے آپ کو دُوسروں کے لیے سمجھو — یعنی جو تم نے دیا وہ تمہاری بلندی ہے۔ جو تم لیتے ہو،جمع کرتے ہو،جس کا اپنی ذات تک استعمال رکھتے ہو،جس پر مغرور ہو،جس حاصل سے لوگوں کو افسردہ کرتے ہو، جس مرتبے سے اُنہیں ڈراتے ہو،جس علم کے ذریعے لوگوں کو پریشان کرتے ہو،سب خود غرضی ہے،سب پست خیالی ہے،کیونکہ بلند خیالی ایثار ہے— روشنی دینااور آگ میں جلنا—!
بلند خیال لوگ فطرت کے انوکھے شہکار ہیں۔ اُن کو الگ رازِ ہستی ملا،اُن کو نئے معنی ملے،زندگی کے! اُن کو حاصل اور محرومی کے نئے رُخ سے آشنائی ہوئی۔ بلند خیال کامیابی اور ناکامی کے مفہوم،حقیقی مفہوم سے آشنا ہوتے ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ کسی مقصد میں کامیاب ہونا،زندگی کی کامیابی تو نہیں۔ گناہ میں کامیابی،زندگی میں ناکامی ہے۔ ایک سخی غریب صاحب ِ خیال ہو سکتا ہے اور ایک بخیل اَمیر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محرومِ خیال—!
بہر حال رفعت ِخیال کی تمنّا ہو تو مال اور مرتبے کی آرزو سے نجات ضروری ہے۔ لذّتِ وجود سے گریز کرنے والے رفعت ِخیال سے آشنا کرائے جاتے ہیں۔ دُوسروں کے دَرد کو اپنا دَرد سمجھنے والوں کو بلند خیال عطا کیا جاتا ہے۔ خدمت ِ اِنسانیت کے مخلص جذبے کو فطرت خود خیال کے زیور سے آراستہ کرتی ہے۔ بلند خیالی اِنسان کا وہ حاصل ہے جو کوشش سے نہیں،نصیب سے ملتا ہے۔ بلند خیال اِنسان خاک نشیں ہو، تب بھی عرش نشیں ہے۔ رفعت ِخیال چونکہ عطا ہے،اِس لیے صاحب ِخیال ہمیشہ عطا ہی کرتا ہے۔اگر کمائی ہوتی تو ہمیشہ سنبھال کر رکھی جاتی۔ اگر سامان ہوتا تو سجایا جاتا۔ اگر مرتبہ ہوتا تو لوگوں کو ڈرایا جاتا،لیکن یہ تو عطا ہے—دینے والے کا عمل،دینے والے نے دینے کے لیے دیا۔ پس! دینے والوں کو اور ایثار کرنے والوں کو بلند خیالی اِس لیے ملی کہ وہ خود چراغ کی طرح جلیں اور روشنی بانٹیں۔ بخیل،مطلب پرست،طالب ِزر سوچتے جائیں کہ یہ سب کیا ہے؟ بس خیال ہی تو ہے، رفعت ِخیال ہوتو کیا ہے؟ رفعت ِ خیال نعمت ِپروردگار ہے۔ زندگی میں حاصل ہونے والا اور زندگی کے بعد بھی رہنے والا سرمایہ یہی رفعت ِ خیال ہی تو ہے۔