رشتے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ وہ جو ہمیں پیدائش سے ہی وراثت میں ملے اور وہ جو ہم نے خود بنائے۔ پیدائشی رشتے خون کے رشتے ہیں — ماں باپ،بہن بھائی، اَعزاء  و اَقرباء — یہ سب رشتے بنے بنائے ہوتے ہیں۔ یہ رشتے نہ جوڑنے سے جڑتے ہیں اور نہ توڑنے سے ٹوٹتے ہیں۔ یہ دائمی رشتے ہیں۔ یہ اَزلی وابستگیاں ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داریاں ہیں جنہیں ہم نے پورا کرنا ہوتا ہے۔ بزرگوں کی عزت، چھوٹوں سے پیار، اِن رشتوں کا تقاضا ہے۔

وہ رشتے جو ہم خود بناتے ہیں، ہمارے دوست ہیں،ہمارے ہم جماعت، ہم مذہب،  ہم پیشہ، ہمدَم رفیق، ہمارے محبوب، ہمارے محبّ، ہمارے سیاسی رفقاء، ہمارے مخالفین، ہمارے مداح، ہمارے افسر،ہمارے ماتحت بلکہ حریف و حلیف، ہمارے اساتذہ، ہمارے تلامذہ — غرضیکہ ہر طرح کے لوگ ہمارے رشتہ دار ہیں۔ ہماری زندگی ہمارے اِن ہی رشتوں میں بٹ جاتی ہے، ختم ہو جاتی ہے اور کٹ جاتی ہے۔ ہم باراتوں اور جنازوں میں شامل ہوتے ہوتے رخصت ہو جاتے ہیں۔ ایک مختصر زندگی اتنے لامحدود رشتوں کی کہاں سے تاب لا سکتی ہے — بس ختم ہو جاتی ہے۔ ہم دوسروں کی داستان سنتے سنتے سو جاتے ہیں۔ داستان جاری رہتی ہے، لیکن سننے والے ختم ہو جاتے ہیں۔

ہم اپنے بزرگوں سے اُن کی زندگی کے حالات سنتے ہیں،اپنے بچوں کو اپنے زمانے کا ذکر سناتے ہیں اور جب بچے اپنا حال سنانے کے قابل ہوتے ہیں، ہم سماعت سے محروم ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہم قلیل عرصہ کے لیے یہاں ہیں اور یہاں کا  کاروبار ایک طویل سلسلہ ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم راستے میں ہی غائب ہو جاتے ہیں۔ کوئی شخص یہ داستان مکمل نہیں کر سکا — کبھی آغاز   رہ گیا اور کبھی انجام — کچھ گلے،شکوے، شکایتیں، کچھ خشک و تر یادیں رہ جاتی ہیں، باقی کچھ بھی تو نہیں رہتا۔

رشتوں کی بہار انسان کے لیے ایک عجب احساس پیدا کرتی ہے۔ فرد ایک وسیع اجتماعیت کے اِحساس میں پلتا ہے۔ ہم خود کو ہر طرف متعلّق محسوس کرتے ہیں۔ ایک عظیم وصال ہمیں اپنی آغوش میں  لے کر پرورش کرتا ہے۔

ہم پر وقت کی عنایات کے دَروازے کھلتے ہیں۔ اِمکانات روشن ہوتے ہیں — ہمارا وجود، ہمارا احساس،ہمارا شعور ہر طرف محسوس کیا جاتا ہے۔ ہم خوشی اورغم  میں تنہا نہیں رہتے۔ لوگ ہمارے ساتھ شریک ہو کر ہماری خوشی میں اضافہ کرتے ہیں اورغم  کو کم کرتے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ ہم دیکھے جا رہے ہیں،ہم سوچے جا رہے ہیں، ہم محسوس کیے جا  رہے ہیں۔ ہم ایک وسیع  اورعظیم زندگی کا لازمی حصہ بن گئے ہیں۔ ہمارے بغیر زندگی نامکمل تھی۔ ہمارے آنے سے سب کچھ ہوا۔ لوگ ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ زندگی ہمارے استقبال میں کھڑی تھی۔ ہم خود کو ایک نہایت ہی  اہم   فرد سمجھتے   ہیں۔ ہم نہ ہوتے تو شاید کچھ بھی نہ ہوتا —  لیکن، اور یہ ”لیکن“ ایک اُداس ”لیکن“ہے —  کچھ ہی عرصہ میں سب کچھ بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ ہم پر برسنے والے پیار کے بادل، بے اعتنائی کی آندھی سے اُڑ جاتے ہیں۔ ہمارے سروں سے محبّت  کی چادر اُتر جاتی ہے۔ محبّت  کرنے والے، محبّت  کرنے والے نہیں رہتے۔

Pages: 1 2 3