رشتوں کی داستان شروع سے چلی آ رہی ہے۔ رشتے پیدا ہوتے ہیں، رشتے بنتے ہیں، بنائے جاتے ہیں، رشتے پلتے ہیں، رشتے ٹوٹتے ہیں اور رشتے جزا و سزا مرتّب کرتے ہیں۔

ذہنی نشوونما اور اِرتقاء کے ساتھ رشتوں کی افادیت بدلتی رہتی ہے۔ آج کے متمدّن و مہذّب معاشرہ میں رشتوں کا احساس مشینوں نے ختم کر دیا ہے۔ ہر آدمی ایک جزیرہ سا    بن گیا ہے۔ محبتوں کی ضرورت نہیں رہی۔ خدمتیں خرید لی جاتی ہیں اور بس — ضرورت کے سودے ہیں، رشتے کیا ہیں!   خاندان ختم ہو رہے ہیں، برادری کا وجود عدم ہو چکا ہے۔ حلقۂ دوستاں اور ہالۂ دشمناں میں چنداں فرق نہیں رہا۔ خون کے رشتے بھی خونی ہوتے جا رہے ہیں۔ خلوص،مہر، وفا   اور محبّت  کے الفاظ معنویت سے عاری ہوتے جا رہے ہیں۔ انسان ترقی کر رہا ہے۔ اُنسیت اور مروّت کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں رکھتا۔ وہ آسمان کے دروازے کھٹکھٹاتا ہے، وہ دِل کے دروازے پر کیوں دستک دے گا۔ وہ خلاؤں کے راستے دریافت کرنے نکلا ہوا ہے،  اُسے گھر کا راستہ بھول گیا ہے۔

وہ ستاروں کی گزر گاہیں ڈھونڈ رہا ہے، وہ گزر گاہِ احساس سے بے خبر ہے۔ اُس کے پاس بہت کچھ ہے، بس پیار کرنے والا دل ہی نہیں۔ اُس کے لیے پیار، محبّت  بے معنی الفاظ ہیں۔ انسان کو بے جان چیزوں سے محبّت  ہے۔ مشینیں،کارخانے، گاڑیاں، بینک، تیز رفتار جہاز، بھاگم دَوڑ اور دھکم پیل میں گم انسان اتنا وقت ہی نہیں رکھتا کہ مانوس چہروں کو محسوس کرے۔ اُس کے پاس ایٹم کی طاقتیں ہیں۔ اُس کے قبضے میں بارُود کے ذخیرے ہیں۔ وہ قوّت رکھتا ہے — انسان کو تباہ کرنے کی قوّت، زمین کو ویران کرنے کی قوّت۔ جذبوں سے عاری انسان رشتے توڑ چکا ہے۔ وہ عقیدت و احترام کی دُنیا چھوڑ چکا ہے— اور نتیجہ یہ کہ انسان رشتے توڑتے توڑتے خود بھی ٹوٹ چکا ہے۔

باہمی احترام ختم ہونے سے کھچاؤ   پیدا ہو گیا ہے اور ڈیپریشن کی وبا پھیل چکی ہے۔ آج جگہ جگہ کلینک کھل رہے ہیں۔ یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ انسان کا باطن مریض ہو چکا ہے۔ محبّت  دِل کی صحت ہے اور بے مروّتی بیماری۔ رشتوں سے آزاد ہو کر انسان ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کا غلام ہو گیا ہے۔

آج  کا انسان صرف مکان میں رہتا ہے۔ اُس کا گھر ختم ہو گیا ہے۔ باہمی اشتراک کے زمانے ختم ہو گئے۔ آج کی ملاقاتیں ضرورت کی ملاقاتیں ہیں۔ آج کا تعلق افادیت کا تعلق ہے۔ انسان کو  شاید محسوس نہیں ہو رہا کہ وہ روحانی تشنگی کا شکار ہے۔ وہ انسانوں کے اِس عظیم میلے میں اکیلا ہے۔ وہ کسی کا نہیں اور اُس کا کوئی نہیں۔ وہ چیزوں کو دیکھتا ہے، انہیں محسوس نہیں کر سکتا — اس بیگانگی کا نتیجہ خطرناک ہو سکتا ہے۔

ابھی وقت ہے کہ رشتوں کے تقدّس کا احیاء کیا جائے۔ انہیں پامال ہونے سے بچایا جائے۔ ایک بار پھر پرانی نشستیں قائم کی جائیں،پرانے گیت گائے جائیں،پرانے چہرے ڈھونڈے جائیں، پرانی آنکھیں تلاش کی جائیں، پرانے آشیانے آباد کیے جائیں،پرانی عقیدتیں بحال کی جائیں، پرانے مناظر پھر سے دیکھے جائیں۔

انسان  ماڈرن ہوتے ہوتے کہیں انسانیت ہی سے محروم نہ ہو جائے۔ دل پرانی یادوں سے آباد رہیں اور پیشانیاں سجدوں سے سرفراز رہیں۔ پرانا  کلمہ پھر سے پڑھا جائے۔ پرانی مساجد کی عزت کی جائے۔ پرانے خطبوں میں نئے نام نہ ملائے جائیں۔ پرانی عقیدتیں ہی دینی عقیدتیں ہیں۔ ہمارا  رشتوں سے آزاد نیا پن کہیں ہمیں دین سے محروم نہ کر دے۔ محبّت  و احترام سے آزاد ہو کر ہم گستاخ نہ بن جائیں۔ ہماری خود غرضی اور گستاخی ہمارے لیے عذاب نہ لکھ دے۔ ایسا عذاب کہ ہمارے لیے کوئی دل بے قرار نہ ہو، کوئی آنکھ انتظار نہ کرے، اور سب سے زیادہ خطرناک عذاب کہ ہمارے لیے کوئی دُعا گو ہی نہ رہ جائے۔ ہم نے جن لوگوں کو اپنی موت کا غم دے کر جانا ہے،  کیوں نہ اُن کو زندگی ہی میں کوئی خوشی دی جائے۔ موت یہ نہیں کہ سانس ختم ہو جائے، اصل موت تو یہ ہے کہ ہمیں یاد کرنے والا کوئی نہ ہو۔ ہمارے لیے نیک خواہشات رکھنے والے ہماری توجہ کے محتاج ہیں۔ اُن  کی  قدر کرنا    چاہیے۔ اگر ہمارا کوئی نہ ہو، تو پھر ہم ہیں ہی کیا؟ ہمارا ہونا بھی کیا ہونا ہے—!!

Pages: 1 2 3