ہماری خوشیاں، ہمارےغم بننا شروع ہو جاتی ہیں۔ہمارا عظیم وصال ایک خوفناک فراق بن جاتا ہے۔ ہمارے، ہمارے نہیں رہتے۔ ہمارا وجود ہی زندگی میں غیر موجود ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ہمارے تذکرے زبانوں سے اُتر جاتے ہیں۔ ہماری یاد دِل سے دُور ہو جاتی ہے۔ ہم تنہائی کے صحرا میں پہنچ جاتے ہیں۔ اپنوں کے پاس، اپنوں کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں ہوتا۔ ہماری محبّت  ہماری آزمائش بن جاتی ہے —اور رشتے دَم توڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کچھ رشتے ہمیں چھوڑ دیتے ہیں،کچھ کو ہم چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ ہمیں بھول جاتے ہیں اور کچھ کو ہم۔ جن کے بغیر گزارا نہیں ہوتا تھا، اُن کے ساتھ گزارا مشکل ہو جاتا ہے۔

جب تک ہم والدین کے گھر میں رہتے ہیں،  ہم خوش رہتے ہیں اور جب شومئ قسمت اُسی مکان میں ماں باپ ہمارے گھر میں رہنے لگیں تو ہم اچھا محسوس نہیں کرتے۔ ہماری ضرورتیں پوری کرنے والے والدین جب ہم سے اپنی ضرورت کا ذکر کرتے ہیں تو ہم   رشتوں کی اذیّت کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم اُس عنایت کو بھول جاتے ہیں جو ہم پر بچپن میں ہوئی۔

اِسی طرح باقی رشتے آہستہ آہستہ دَم توڑ دیتے ہیں۔ اس طرح ہم آہستہ آہستہ اپنوں سے بیگانوں میں جا پہنچتے ہیں۔ ہمارے ساتھ ایک قافلہ چل رہا تھا۔ ایک ہجوم تھا اپنوں کا، اپنے لگتوں کا۔ چلتے چلتے ہجوم بدل جاتا ہے۔ چہرے تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ہجوم قائم رہتا ہے لیکن افرادبدل جاتے ہیں، اور اس ہجوم میں ہمارے ماضی کی کوئی  ہمراہی نہیں ہوتی۔ سب اجنبی ہوتے ہیں — سب، سب سے بے خبر — ہمارے ہی قافلے میں ہمارا کوئی نہیں ہوتا۔ رشتے ٹوٹ چکے ہوتے ہیں۔ دل پتھر ہو چکا ہوتا ہے،نہ کوئی یاد ستاتی ہے، نہ کوئی غم رلاتا ہے۔ ہونااور نہ ہونا برابر سا لگتا ہے۔

رشتے ہمارا وقت، ہمارا پیسہ، ہمارا سکون اور کبھی کبھی ہمارا ایمان کھاتے ہیں۔ یہی ہمارا سماج ہے اور یہی ہمارا معیار ہے۔ ہمیں ترغیبات میں پھنسانے والے رشتے ہی تو ہیں۔ ہمیں غریبی سے غیرت دلانے والے رشتے ہی تو ہیں—   اور پھر اِس غیرت سے مجبور ہو کر ہم ایمان فروشی کر جاتے ہیں۔ ہم غریبی کو حرام سمجھتے ہیں اور رشوت کو حلال۔ رشتوں کے تقاضے، دین کے تقاضوں سے متصادم ہو جاتے ہیں اور پھر —  ہم بے بس ہو کر، کر گزرتے ہیں وہ کام  جو ہمیں نہ کرنا چاہیے۔

رشتوں میں اہم ترین رشتہ میاں بیوی کا ہے۔ یہ رشتہ ہم خود بناتے ہیں اور خود ہی اِس کو نبھانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ گاڑی کے دو پہیے ساری عمر مناظرہ  ہی کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی تو مجادلے تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اس غزل کے مطلع اور مقطع میں کچھ فرق نہیں ہوتا۔ نہ جانے کب کیا ہو جائے۔ سکون بھی اس رشتے میں ہے اور اضطراب بھی۔ شادی کے اوّلین اَیام طلسماتی ہوتے ہیں۔ محبّت  و سرشاری کی داستان، وفورِ شوق کے لمحات اور عزت و احترام کے جذبات، شعورِ ذات کی بیداری کا دَور، ارتقاء و بقائے حیات کے عظیم عمل میں اشتراک کا  اِحساس اِس رشتے کی اساس ہے— لیکن یہ رشتہ بھی—  کیا اعتبار رشتۂ ناپائیدار کا! پیار  ہی پیار  میں” آپ“ سے” تم“ اور” تم“ سے” تُو“   تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ سکون بخش رشتے کے اذیّت ناک پہلو نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ اِنسان پسندیدہ کو بس برداشت کرنا شروع کر دیتا ہے۔ شروع شروع میں لوگ اِس رشتے کے دَم سے زندہ ہوتے ہیں اور پھر اِس کے باوجود— !  ملہار میں شروع ہونے والا یہ رشتہ دیپک راگ  پر ختم ہوتا ہے۔

Pages: 1 2 3