سوچتا ہوں اور سوچ ہی سوچ میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ میں کیا سوچ رہا ہوں — سوچتا ہوں کہ انسان کی سوچ کتنی لامحدود ہے کہ وہ ہر چیز کے بارے میں سوچ سکتا ہے، لیکن یہ سوچ کر شرمندہ ہوتا ہوں کہ انسان خود ہی محدود ہے —  اُس کی سوچ بھی اتنی ہی محدود ہے، اور محدود سوچ کا شاید یہی ثبوت ہے کہ انسان اپنی سوچ کو لامحدود سمجھے۔ ہمیں تو یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم خود کیا ہیں؟  ہماری سوچ کیا ہے؟ یہ خیال کیا ہے؟ خیال کہاں سے آتا ہے؟ کیا خیال موجود اشیاء سے باہر بھی جا سکتا ہے؟— اور کیا موجود کے علاوہ کوئی لاموجود اور ناموجود  دنیا بھی ہے؟ اگر ہے، تو ابھی تک ناموجود کیوں ہے؟ کیا ہر دَور کے لیے ہر بشر کے لیے الگ الگ عالمِ موجودات ہے؟  کیا منظر، دیکھنے والوں کی بساط کا نام ہے؟ کیا علم، اپنی صلاحیت کا نام ہے؟کیا تصور، اپنی حالت اور اپنے حالات سے آگے نہیں جا سکتا؟  کیا ہم،  ہم کے علاوہ بھی ہیں؟ کیا اِس پردے کے پیچھے بھی کچھ ہے؟ کیا پردہ ہے بھی یا یہ محض پردہ ہی پردہ ہے؟ کیا ہم پیدا ہوتے ہیں؟— کیا ہم واقعی مر جاتے ہیں—؟   کیا ہم مرنے کے بعد بالکل ختم ہو جاتے ہیں؟  کیا ہم کچھ اور بھی ہیں؟ کیا ہم کسی اور شکل میں زندہ رہیں گے؟ مرنے کے بعد — موت کا منظر ہوتا ہے؟  کیا واقعی ہوتا ہے؟

 کیا موت کے بعد ہمارے ساتھ وہی دکھ، وہی احساسات، وہی کیفیات رہتی ہیں؟   کیا مرنے کے بعد بھی غم اور خوشی، ہمارے غم اور خوشیاں ہوتی ہیں؟   کیا تکلیف ہوتی ہے؟  کیا سب کچھ ہوتا ہی رہتا ہے ہمارے ساتھ؟  اگر سب کچھ ہوتا ہی رہتا ہے تو مرتا کون ہے؟   زندہ کون ہے؟  قبر میں کون جاتا ہے؟   قبر کے اندر جلوے ہوتے ہیں؟   کیا اندھیرا ہوتا ہے؟   کیا روشنی ہوتی ہے؟  کیا آنکھیں ہوتی ہیں؟   کیا ہم مرنے کے بعد بھی دیکھ سکتے ہیں؟   کیا مرنے سے ہمارا سفر ختم نہیں ہوتا؟   کیا ہم ایک سفر کے بعد ایک  اور سفر پر گامزن ہو جاتے ہیں؟   کیا ہر سفر کا انجام ایک تازہ سفر ہے؟   کیا منزل ایک نئے سفر کا نام ہے؟   کیا ’’موت کا منظر“  نامی کتاب لکھنا بہت ضروری تھا؟   یہ مسلمان ہونے کی سزا ہے؟   کیا مُردے جلانے والوں کی بھی قبریں ہوتی ہیں؟   کیا اُن کے لیے قبر کا عذاب نہیں ہے؟   یہ عذابِ قبر، ماننے والوں کے لیے ہے؟   صرف ماننے والے، مرنے کے بعد پھر مرتے رہتے ہیں؟   کیا ہم آخری بار نہیں مر سکتے؟   کیا ہم وہم ہیں؟   کیا ہم طلسمات میں کھو گئے ہیں؟   کیا ہم حاضر دنیا میں موجود رہ کر غائب اَزنگاہ  دنیا کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں؟   کیا ہماری سوچ مفلوج کر دی گئی ہے؟   کیا ہمارے مبلغ  ہمیں خوفناک انجام اور خطرناک مستقبل کے عذاب سے ڈرانے کے علاوہ کوئی کام نہیں جانتے؟  کیا یہ لوگ صرف خدا کی رحمت سے مایوس کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں؟  کیا یہ لوگ کبھی مریں گے؟— کب—؟ کیا یہ ابھی نہیں مر سکتے؟کیا اِن کے نصیب میں شفقت نہیں ہے؟

 کیا ہر آدمی ہر علم جان سکتا ہے؟   کیا مجبوری بھی کوئی شے ہے؟  کیا سب لوگ رشوت کا مال اکٹھا کر سکتے ہیں؟   کیا سارے لوگ رشوت اور حرام کے مال سے حج کر سکتے ہیں؟   کیا یتیم کے مال سے کیا ہوا حج منظور ہو جاتا ہے؟   کیا اللہ ایک خاص مقام پر موجود ہے؟   اگر ایساہے تو ”علاوہ“ کس کا ہے؟ کون ہے جو پردے کے اندر ہے اور کون ہے جو پردے کے باہر ہے؟   کیا ایک ذات سارے کام کرتی ہے؟   کیا پیدا کرنے والا ہی مارنے والا ہے؟   مارنا ہی ہے تو پیدا کیوں کیا؟—   اور اگر پیدا ہی کیا تو مارنے کی کیا ضرورت ہے؟

Pages: 1 2 3