وہ ظلمات سے نور میں داخل کرتا ہے —  وہ گناہ معاف کرتا ہے —  سارے گناہ — اور وہ یہاں تک مہربان ہے کہ وہ گناہوں کو معاف کرکے انہیں نیکیوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔ حساب کرنے والوں کے ساتھ وہ حساب کرتا ہے، رائی رائی کا،پائی پائی کا —  زیادہ عقل والوں کو اور نہ ماننے والوں کو اُن کے اعمال کے نتیجے کے حوالے کر دیتا ہے —اور عذاب تو یہ ہے کہ انسان کو اُس کے اعمال کی عبرت کے حوالے کر دیا جائے— اُس نے بتا دیا ہے کہ اپنے اعمال پر توبہ کرو —  اُس کا قرب، اُس کے مقربؐ کے قرب میں ہے اور اُس نے فرما دیا ہے— یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ  وہ عذاب ڈالے اُن پر جن کے درمیان وہ ذاتؐ ہو، جس کے لیے ہمیشہ دُرود و سلام ہے۔ انسان سوچ کو سوچنا بند ہی کر دے۔ وہ سوچ سے باہر ہے۔

ہم نے یہ نہیں پوچھنا کہ اُس نے ایسے کیوں کیا بلکہ ہمیں تیاری کرنا ہے کہ ہم سے پوچھا جانے والا ہے کہ ہم نے ایسے کیوں کیا؟  ہمارے لیے یہی راہ، فلاح کی راہ ہے کہ اپنے عمل اور اپنے انجام پر نظر رہے۔ وہ جو عطا کرے، ہم راضی ہیں۔ غم بھی اس کا دیا ہوا، خوشی بھی اُس کی عطا — سوچ اُس نے عطا کی —  اور سوچ کی اصلاح کرنے والے بھی اُس نے پیدا فرمائے۔ صحیح سوچ دینے والے سلامت ہی رہیں۔ عمل کی کوتاہیاں، توبہ سے پوری کی جائیں۔ اُس کی ذات سے  دُوری، اُس کے سجدے سے کم کی جائے۔ اے خالق!  تیرے ہر عمل پر تیرا بندہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے راضی ہے۔ اپنے قریب رکھ۔  اپنے محبوبؐ  کا راستہ دکھا۔ یہی کافی ہے۔ باقی رہی تیری ذات اور تیری شان — تُو بلندیوں سے زیادہ بلند ہے —  تُو رفعتوں سے زیادہ ارفع ہے —  تُو دماغ میں نہیں آ سکتا—  !ہاں! —  دِل میں آ—! یہ دل  تیری آرزو کے علاوہ ہر آرزو سے آزاد ہے  — یہی تو عجب بات ہے کہ تیری محبّت  ہی تیرے محبوبؐ کے دَر تک لاتی ہے۔ ہم بیچارے تیری تحقیق کیا کر سکتے ہیں۔ ہم تجھے تسلیم کرتے ہیں۔ ہمیں اپنا بنا لے!—   رحم فرما—!  ہماری سوچوں کو صحت مند  رخ  عطا فرما۔

Pages: 1 2 3