عجب صورتِ حال ہے،عجب شان ہے،  عجب رنگ ہیں۔ وہ خود فرماتا ہے — اور اُس کا ہر فرمان ہی بجا — ہر بات ہی سچ — ہر اَدا پر ہی نثار — بندہ سوچتا ہے — اور سوچ سے بچنے کا طریقہ ہی معلوم نہ ہو تو مجبوری ہے۔ ارشاد ہے — میں سب بادشاہوں کا مالک ہوں — ملک کا مالک — جسے چاہوں تخت عطا کروں، جسے چاہوں بخت رسا کروں اور جسے چاہوں معزول کر دوں، اور جسے چاہوں گداگر کر دوں۔ وہ مالک ہے — جب چاہے روشنی پیدا کر دے،جب چاہے تاریکی پیدا کر دے — رات سے دن اور دن سے رات پیدا کر سکتا ہے — اور کرتا ہے— جسے چاہے عزت دے،جسے چاہے ذلّت — وہ زمین و آسمان کے خزانوں کا واحد مالک ہے —  وہی تو انسان کو مالا مال کرتا ہے — اور جب چاہے خود ہی انسان سے قرضے کا سوال کرتا ہے — یہ کیسے ہے —    وہ ایک طرف تو خود ہی کسی کے باپ کو مار کر اُسے یتیم کر دیتا ہے اور خود ہی یتیم کی مدد کا سوال کرتا ہے — یتیم کا بہت ہی خیال کرتا ہے — اور حکم دیتا ہے کہ یتیم کا مال نہ کھاؤ —  اپنے پیٹ کو آگ سے نہ بھرو — کیا یہ نہیں ہو سکتا  کہ وہ کسی کو یتیم ہی نہ کرے — کیا وہ ہمارے کہنے پر عمل کر سکتا ہے —  وہ تو خود ہی مالک ہے — مرضی کا — اسے اختیار ہے، مکمل —  اُس کے قبضہِ قدرت سے کسی شے کے باہر ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ صرف ہماری اپنی سوچ ہی کھو جاتی ہے —  ہم ہجومِ خیال میں گم ہو جاتے ہیں —  ہم اپنے پیمانوں سے اُسی کو ماپتے ہیں جو  ہر پیمانے سے باہر ،ہر حد سے باہر ہے — ہر سوچ سے پرے — سرحدِ اِدراک سے ماورا  ہے۔

اُس کا مقام عالی —  اُس کا مقام،مقامات کے تعین سے آزاد ہے۔ وہ خالق ہے — مخلوق کی سوچ میں کیسے آ سکتا ہے!   ہم لوگ اُلجھے ہوئے،تفکرات میں گھرے ہوئے،حصارِ وقت میں جکڑے ہوئے، تعیّنات میں پابند،   کیا جانیں کہ وہ کیا ہے—!! اُس کی ذات میں کسی قسم کا کوئی تضاد نہیں — وہ ایک ہی جلوہ ہے —  وہ پیدا کرے یا مار دے، اُس کے لیے یہ ایک ہی بات ہے —  وہ بہتر جانتا ہے کہ یہ کائنات کیا ہے — انسان کیوں ہے — کب سے ہے — کب تک ہے — کن مراحل سے گزرنا ہے انسان کو— !!  وہ کبھی سر پر تاج رکھ دیتا ہے،کبھی ہاتھ میں کاسۂ گدائی تھما دیتا ہے — اُس کی ادائیں ہیں —  اُس کی دلربائی ہے —  اُس کی کبریائی بھی دلربائی ہے —   وہ بے نیاز ہے —  ہر ایک سے بے نیاز، لیکن وہ دُرود بھیجتا ہے اور بھیجتا ہی رہتا ہے اپنے محبوبؐ پر—!!

وہ اپنے محبوبؐ کو عزتیں عطا فرماتا ہے، لیکن غریبی بھی — غریب الوطنی بھی— !یہ شان ہے اُس کی —  یہ ادائیں ہیں اُس کی  —  وہ چاہتا ہے کہ سب اُس کے محبوبؐ  کے تابع فرمان ہو  جائیں —  سب دُرود و سلام بھیجیں اُس ذاتؐ  پر جو اُسے محبوب ہے۔ اُس میں صرف استقامت ہے —  کوئی تضاد نہیں —  وہ قھّار ہے،جبّار ہے،رحمان ہے،رحیم ہے —  اور سب ایک ہی نور کے جلوے ہیں۔ وحدت   میں کثرت، اور کثرت  میں وحدت کے جلوے ہیں۔ اُس    کو سمجھنا آسان ہے —  اُسے دماغ سے    نہ سمجھا جائے — اُسے ماننا چاہیے۔ وہ شفیق ہے،وہ مہربان ہے، وہ رحمان ہے،  وہ رحیم ہے —  وہ کہتا ہے کہ اُس کی رحمت اُس کے غضب سے زیادہ وسیع ہے۔

Pages: 1 2 3