آج کی زندگی کا المیہ تنہائی ہے۔ آج کا اِنسان وقت کے وسیع و لا محدود سمندر میں ایک جزیرے کی طرح تنہا ہے۔  ہم سب جزیرے ہیں —  ایک دوسرے کے آس پاس،  لیکن ایک دُوسرے سے ناشناس  —  ایک دُوسرے سے بے خبر،  ایک دُوسرے سے اجنبی اور اپنے آپ سے اجنبی —  کروڑوں افراد،  ہجوم در ہجوم اور سارے تنہا۔  اِنسانوں کی بھِیڑ ہے،  اِنسانوں کا میلہ ہے،  لیکن ہر اِنسان اکیلا ہے۔

ہم سب اپنے اپنے مفادات اور مقاصد کے تعاقب میں ہیں۔  ہم اپنی غر ض اور خود غرضی کے غلام ہیں۔  کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں۔  سب کامیابی کے پجاری ہیں۔  ”کامیابی “ آج کے اِنسان کا مسجود ہے۔ کامیابی،  جوحاصل نہیں ہوتی  —  ایک خوبصورت تتلی جو اُڑتی ہے اور لوگ بچوں کی طرح اُس کے پیچھے پیچھے بھاگتے ہیں اور بچھڑ جاتے ہیں،  اپنوں سے اور اپنے آپ سے۔

ہم سب مصروف ہیں۔ ہمیں بڑے کام کرنے ہیں۔ہم بہت سی خواہشات رکھتے ہیں۔  ہم بڑی اذیّت میں ہیں۔ ہم سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔  ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔  ہمارے پاس وقت نہیں کہ ہم آرام کر سکیں۔  سکون کی تلاش میں ہم بے سکون ہیں۔  آرام کی تمنّا ہمیں بے آرام کر رہی ہے۔  محفلوں کی آرزو ہمیں تنہائی تک لے آتی ہے۔  دِل بجھ جائے تو شہرِ تمنّا کے چراغاں سے خوشی حاصل نہیں ہوتی۔  ہم تیزی میں ہیں۔  ہم جلدی میں ہیں۔  ہم جمع کرتے ہیں،  مشکل وقت کے لیے،  پس انداز کرتے ہیں اور پھر مشکل وقت کا انتظار کرتے ہیں،  اور وہ مشکل وقت ضرور آتا ہے۔ ہم جلدی میں ہیں۔  ہم تیز رفتار ہیں۔  ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی خواہش میں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے جا رہے ہیں۔  بھائی بھائی میں مقابلہ ہے۔  بھائی بھائی الگ ہیں۔  مقابلہ کرنے کی خواہش معاون سے محروم کر دیتی ہے۔  ہم صرف اپنے لیے زندہ ہیں،  اپنی ذات میں گم،  اپنے اپنے سفر پر گامزن۔  آسمان کے کروڑوں ستاروں کی طرح اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔  ایک دوسرے سے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔  آدمی آدمی سے اجنبی ہو رہا ہے۔  یہ اجنبیت تنہائی میں اضافہ کر رہی ہے۔

ہم ایک دوسرے کو ہلاک کرتے جا رہے ہیں۔ وسائل کی ناہموار تقسیم محرومیاں پیدا کر رہی ہے۔  ہم اپنے آپ کو زندگی سے محروم کرتے جا رہے ہیں۔  ظاہر کی کامیابیاں اندر کی گھٹن کب تک چھپائیں گی۔  اندر کا اِنسان سسک رہا ہے،  بلک رہا ہے،  چیخ رہا ہے۔  ہم اِس کی آواز سُنتے ہیں،لیکن اپنے کانوں پر اعتبار نہیں۔ ہم اپنے باطن کو ہلاک کر کے کامرانیوں کے جشن مناتے ہیں۔ ہم اپنے روحانی وجود سے فرار کر رہے ہیں۔  ہم نے کئی چہرے رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارے غم اور ہماری خوشیاں میکانکی ہیں۔  ہم ہمدردی سے نا آشنا ہیں۔  ہم اپنے اندر کی آواز کو خاموش کرا دیتے ہیں اور پھر ضمیر کے کسی دباؤ سے آزاد ہو کر ہم اپنی تنہائی کے سفر پرروانہ رہتے ہیں۔

ہماری زمین خِطوں،  علاقوں اور مُلکوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی ہے۔  ایک ایک اِنچ تقسیم ہو چکا ہے۔  قوموں کے لیے ممالک ہیں لیکن اِنسان کے لیے کوئی خطہ نہیں۔  اِنسان اکیلا ہے،  محروم ہے اپنی خلافتِ ارضی سے۔  پہاڑ،  دریا،  سمندر سب تقسیم ہو چکے ہیں۔  اِنسان کے لیے صرف آسمان ہی رہ گیا ہے۔

Pages: 1 2 3 4