اِنسان خود قوموں میں بٹ چکا ہے، اپنے اسلاف سے کٹ چکا ہے، اپنے منصب سے ہٹ چکاہے۔ اِنسان محبوس ہو گیا ہے۔ ہر اِنسان کے گرد ایک تاریخی اور جغرافیائی حصار ہے، ایک نسلی تعصّب ہے، ایک گروہی منفعت کا احساس ہے۔ شعور بین الاقوامی ہے اور مفادات قومی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ اِنسان وہ نہیں، جو وہ ہے۔ اِنسان کثرت میں واحد ہے، اژدہام میں تنہاہے۔
تنہائی روح کی گہرائی تک آ پہنچی۔ ہماری روحیں ایک دوسرے کے قرب سے محروم ہیں۔ روحیں محبّت کی پیاسی ہیں۔ اِنسان، اِنسانی اقدار سے بے حِس ہے۔ احساس مر چکا ہے۔ کوئی کسی کے لیے کچھ نہیں چاہتا۔ ہم ایک دوسرے کو برداشت کر رہے ہیں، تسلیم نہیں کرتے۔ ہم اذیّت میں ہیں۔ ہمیں اپنے علاوہ کوئی چہرہ پسند نہیں۔ ہم، مفادات کے پجاری، بھول گئے ہیں کہ زندگی حاصل ہی نہیں، ایثار بھی ہے۔ہم اپنی فکر کو فکرِ بلند سمجھتے ہیں اور اپنے عمل کو
عمل ِ صالح۔ ہم نہیں جانتے کہ ہم کتنے کمزور ہیں۔ ہم اُس چراغ کی طرح ہیں جو آندھیوں کی زد میں ہے۔ ہم کئی چہرے رکھتے ہیں لیکن ہمارا اصل رُوپ تنہائیوں میں ہے۔ ہماری حقیقت تنہائی اور خاموشی میں ہے۔
ہماری محفلیں مسکراتی ہیں اور ہماری تنہائیا ں روتی ہیں۔ ہمارے دِن سورج کے ساتھ گزرتے ہیں اور رات سنّاٹوں میں — مہیب خاموشی، ایک مکمل تنہائی۔ جب ہم اپنی اصل شکل دیکھتے ہیں، ہم پہچان نہیں سکتے کہ ہم کون ہیں۔ ہمارا قیام عارضی ہے، ہمارے منصوبے ناپائیدار، ہمارے عزائم ناقابلِ حصول۔ ہم اپنے دام میں ہیں اور یہی تنہائی کا سبب ہے۔ جب ہم کسی کے نہیں، تو ہمارا کون ہو گا؟
ہم زندگی کا سفر تنہا شروع کرتے ہیں اور انجامِ کار تنہا ہی ختم کرتے ہیں، نہ کوئی ہمارے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور نہ کوئی ہمارے ساتھ مرتا ہے۔ ہمارے اجتماعات ضرورت کے ہیں اور ضرورتیں وفا سے نا آشنا ہوتی ہیں، اور جب تک وفا نہ مِلے، تنہائی ختم نہیں ہوتی۔
آج کا اِنسان، اِنسانی نظروں سے گر رہا ہے۔ اِنسان، اِنسان کے دِل سے دُور ہو گیا۔ آسمانوں سے راستہ لینے والا دِل کا راستہ نہیں معلوم کر سکا۔ اِنسان، اِنسان کا مطالعہ چھوڑ کر کائنات دریافت کرنے چلا ہے اور کائنات کی عظیم و لا محدود وسعتوں میں تنہائیوں کے سِوا کیا ملے گا؟