رفاقتوں سے محروم اِنسان بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے اور سب سے بڑی بیماری، تنہائی بذاتِ خود ہے۔ یہ بیماری بھی ہے اور عذاب بھی!
آج کے اِنسان کی رُوح میں تنہائی کا زہر اُتر چکاہے۔ اِنسان کے اعمال اُس کے لیے تنہائی کا عذاب لکھ چکے ہیں۔تن کی دُنیا کا پجاری من کی دُنیا سے محروم ہو کر تنہا رہ گیا ہے۔ اِنسان، اِنسان پر ظلم کر رہا ہے۔ بڑی قومیں چھوٹی قوموں کو نگل رہی ہیں۔ اِنسانوں کی خدمت کے نام پر اِنسان پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ غریب نوازیو ں کے نام پر غریب کُشی ہو رہی ہے۔ امن کے نام پر جنگ کا الاؤ روشن ہو رہا ہے۔ اِنسان، اِنسان سے خوفزدہ ہے۔ اِنسان اپنے آپ سے گریزاں ہے۔ طاقتور کے قصیدے ہیں اور ظلم کے ہاتھ مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔ سُپر طاقتیں اِنسانوں کی تباہی کے منصوبے بنا چکی ہیں۔
آج کا اِنسان آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا ہے، نہ جانے کب کیا ہو جائے۔ ایک ہولناک تنہائی نے اِنسان کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ترقی و ارتقاء کے نام پر تباہی کے پروگرام بن چکے ہیں۔ اِنسان کی روح سہم گئی ہے۔ شاید یہ تہذیب اپنا دَور پورا کر چکی ہے۔
شاید آج کا اِنسان کسی مستقبل کی اُمّید سے ناآشنا ہے۔ مایوسی مقدّر بن چکی ہے۔ ایک دَور ختم ہو رہا ہے۔ دوسرا دَور ابھی پیدانہیں ہوا۔ یہ عرصہ، عرصۂ تنہائی ہے۔ ہم برزخ سے گزر رہے ہیں۔
ہمارے پاس آسائشیں ہیں، سکون نہیں۔ ہمارے پاس مال ہے، اطمینان نہیں۔ ہم سب ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، لیکن منزلیں جُدا جُدا ہیں۔ ہم ہجوم میں ہیں، لیکن ہجوم سے کوئی واسطہ نہیں۔ ہم سب آس پاس ہیں۔ ہم ایک دوسرے کا غم سنتے ہیں، لیکن محسوس نہیں کرتے۔ ہم اپنے علاوہ کسی کو اپنے جیسا نہیں سمجھتے۔ ہمیں اپنے آنسو مقدّس نظر آتے ہیں لیکن دوسروں کی آنکھ سے ٹپکنے والے آنسو، ہمیں مگر مچھ کے آنسو نظر آتے ہیں۔