تعریف سننے کی تمنّااِنسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے،لیکن اِس کمزوری کے اندر بعض اوقات اِنسان کی طاقت پنہاں ہوتی ہے۔ تعریف سننے کی آرزو میں اِنسان کے اندر کا خوابیدہ فنکار بیدار ہوتا ہے۔ فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے اور خراجِ تحسین وصول کرتا ہے۔ فن کی بقا تعریف کے دَم سے ہے۔ تعریف نہ ہوتو فن افسردہ ہو جاتا ہے۔

 اِنسان کی صفات تعریف کی متقاضی ہیں۔ تعریف، خوشامد نہیں۔ خوشامد،بغیر صفت کے تعریف ہے۔ خوشامداُس بیان کو کہتے ہیں جس کے دینے والا جانتا ہے کہ جھوٹ ہے اور سننے والا سمجھتا ہے کہ سچ ہے۔ خوشامد سننے کا طالب مریض ہے اور خوشامدی اِس مرض میں اضافہ کرتا ہے۔

 بادشاہوں کو ظِلِّ سبحانی کہلانے کا شوق دربارکو خوشامدیوں کی آماجگاہ بنا دیتا ہے اور یہ درباری بادشاہوں کی آنکھوں پر خوشامد کی خوبصورت پٹیاں باندھ کر اُنہیں اُن کی اصلیّت سے بے خبر رکھتے ہیں۔ ملکی معاملات کی اِصلاح کی بجائے شہنشاہ اپنے قصیدے سنتے ہیں اور رعایاکو مرثیہ خوانوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔

تعریف نہ ہو تو شاید دُنیا میں اِتنا ہنگامہ نہ ہو۔ لوگ جائز ناجائز دولت کما کر گھروں کو سجاتے ہیں، ان میں قمقمے لگاتے ہیں، روشنیاں کرتے ہیں اور پھر دوستوں کو دعوت دیتے ہیں۔ تعریف ہوتی ہے اور پھر ہوتی ہی رہتی ہے۔ گھروں میں چراغاں رہتا ہے اور دِل اندر سے بجھتے جاتے ہیں۔ مال کی تعریف،مال کی نمائش کی تعریف اِنسانوں کو اندھا کر دیتی ہے۔ جس اِنسان میں ذاتی صفات نہ ہوں،وہ اپنے لباس سے لے کر اپنے مکان تک اپنی ہر شے کی تعریف چاہتا ہے۔

  تعریف کی تمنّا اِنسان کو بڑے کرب میں مبتلاکر دیتی ہے۔ وطن میں تعریف سننے کی تمنّامیں اِنسان پردیس تک پہنچ جاتا ہے۔ مال کماتا ہے۔ پردیس کی اَذیّت برداشت کرتا ہے۔ اُس کے گھر والے دولت کا اظہار کرتے ہیں،تعریف سنتے ہیں،اور وہ پردیس میں تنہائی کی بھٹی میں جلتا ہے۔ سال میں ایک آدھ دفعہ وطن واپس آتا ہے۔ دوستوں کو جمع کرتا ہے۔ مال خرچ کرتا ہے۔ تعریف سنتا ہے اور پھر آزردہ خاطر پردیس کی اجنبیت کے حوالے ہو جاتا ہے۔

Pages: 1 2 3