بعض اوقات تعریف کی آرزو میں اِنسان جان پر بھی کھیل جاتا ہے۔ وہ اپنی موت کو قابل ِ تعریف بنانے میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ تعریف کا زخم سب سے گہرا زخم ہے۔ اس کا مندمل ہونا مشکل ہے۔ تعریف سننے کی بیماری میں مبتلا اِنسان کی اگر تعریف نہ کی جائے تو وہ اِسے اپنی توہین سمجھتا ہے۔ اگر آپ کا دوست نیا لباس زیبِ تن کر کے آپ کے پاس آئے اور آپ کسی وجہ سے اُس کے لباس کی طرف توجہ نہ کریں تو آپ کی دوستی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
اِنسان کی تمام تراش خراش، بن سنور، سج دھج، اُس کابانکپن، اُس کا دَم خم، اُس کا لب و لہجہ، اُس کے ناز و ادا، اُس کی حرکات وسکنات تعریف طلبی کے حربے ہیں۔ ایک پہلے سے مقروض انسان نیا قرضہ لے کر اپنے بیٹے کا ولیمہ فائیو سٹار ہوٹل میں صرف اِس لیے کرتا ہے کہ اُس کی تعریف ہو— تعریف کرنے والے تعریف کرتے ہیں،لیکن دِل ہی دِل میں اُس کی کوتاہ اندیشیوں کے تذکرے کرتے ہیں۔ اُس کے قرض خواہ اُس کی کیا تعریف کرتے ہوں گے!
اگر اِنسان کی شکل بہتر ہے تو اِس میں اُس کا اپنا کیا کمال ہے—اِنسان میں اِنسان کا اپنا کیا ہے؟
اَمیر آدمی کی تعریف،غریب کو اُس کے حق سے محروم رکھنے کا جواز ہے۔ اگر ہم دولت مندوں کی آرائشوں کی تعریف کرنا چھوڑ دیں،تو شاید دُنیا میں ظلم کم ہو جائے۔ حق والوں کو حق سے محروم کر کے ظالم اپنی دولت کی تعریف سنتا ہے اور یوں معاشی نا ہمواریاں قائم رہتی ہیں۔ ظالم اپنے ظلم کو فن کے طور پر ظاہر کرتا ہے اور تعریف کرنے والے اُسے داد دیتے ہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو تعریف کی داستان میں ظلم کی داستان پنہاں ہے۔ بڑی بڑی سلطنتیں،بڑے بڑے ممالک، ترقی یافتہ ممالک قابلِ تعریف کارنامے سر انجام دیتے ہیں لیکن اُن کے پیچھے وہ مظالم مخفی ہوتے ہیں جو وہ اِنسان پر رَوا رکھتے ہیں۔ آج آدھی دُنیا کرب میں مبتلا ہے اور باقی کی دُنیا قابلِ تعریف ٹھہرائی جا رہی ہے۔
سائنس نے بڑے بڑے قابلِ تعریف کارنامے انجام دیے—بس کائنات کی تسخیر کا سہرا سائنس کے سر ہے اور ایٹم بم کی تباہ کاریاں بھی اِس تعریف کے پردے میں موجود ہیں۔ زندگی کو آسانیاں عطا کرنے کا دعویٰ رکھنے والی تہذیبیں زندگی کو عذاب میں مبتلا کر رہی ہیں۔ آج کے اِنسان کو آسائشیں عطا کر دی گئی ہیں۔ بیماروں کے لیے ہسپتال قابلِ تعریف کارنامہ ہے۔ زِندگی کی حفاظت کا دعویٰ کر کے تعریف سننے والے زِندگی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اَمن کے پجاری جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ تعریف کی لائی ہوئی تباہی اپنی قباحتوں کا مظاہرہ کرنے والی ہے۔ اگر تعریف کرنے والے کا مزاج بدل جائےتو تعریف سننے والے کا مزاج ضرور بدل جائے گا۔