مَیں عجیب تکلیف میں ہوں۔ اِس کا شاید علاج نہیں ہوسکتا۔ مَیں فکر کی وادیوں میں سرگرداں ہوں۔ مجھے اُس عمل کی تلاش ہےجو مجھے میرے فکر سے نجات دلائے، لیکن یہ سوچ کر کہ اب میرا فکر ہی میرا عمل ہے، مَیں خاموش ہو جاتا ہوں، اپنی تلاش ترک کر دیتا ہوں۔ مجھے مستقبل پر اعتماد ہے۔ مجھے اُس کی رحمت پر یقین ہے۔ میرے عمل کی کوتاہی مجھے اُس کے فضل سے محروم نہیں کرسکتی۔ اُس کی عطا، میری خطا سے بہت وسیع ہے۔ میرے مُلک کی عزّت اُس کے نام کی عزّت سے وابستہ ہے، اِس لیے مجھے مایوسی نہیں ہو سکتی۔ مُلک عطا کرنے والا اِس کی بقا کا انتظام فرمائے گا۔ مجھے ہر اِنسان دُکھی نظر آتا ہے اور ہر اِنسان دُکھ کا باعث بھی اور دُکھ کا مداوا بھی۔ ہر بیماری اپنے قریب ہی اپنا علاج رکھتی ہے۔
اب مَیں سوچ رہا ہوں کہ مجھے اِس ساتھی سے نجات حاصل کرنی چاہیے، جس نے میری سوچ کو پراگندہ کر دیا ہے۔ مجھے دوسروں سے مختلف خیال کا کیا حق ہے؟ لو گ جو کچھ کر رہے ہیں، ٹھیک ہی ہو گا۔ خدا کرے ایسا ہی ہو۔ مَیں تو اپنے بارے میں ہی سوچتا ہوں۔ مجھے بھی غافل ہونے کا حق ہے۔ یہ حق مجھے ملنا چاہیے۔ مَیں چاہتا ہوں کہ آئینے والے ”مَیں “ کو واپس بھیج دوں، لیکن — کیسے؟ آئینہ تو ٹوٹ چکا ہے!!