نیند کی قیمت اُس سے پوچھو،  جس کو نیند نہیں آتی۔  نیندہی زندگی کے دستر خوان کی سب سے اہم،  سب سے لذیذاور سب سے میٹھی ڈِش ہے۔

 نیند دو مصروف اوقات کے درمیان وقفہ ہے —  فطری وقفہ، جس طرح امن کا زمانہ دو جنگوں کے درمیانی وقفے کا نام ہے۔

نیند اِنسان کو اُس کی محنت کے بعد آرام پہنچاتی ہے اور اُسے نئی محنتوں کے لیے تیار کرتی ہے۔  نیند ایک نجات دہندہ فرشتہ ہے جو اِنسان کو اُس کے اعمال،  اُس کے احوال اور اُس کے خیال سے آزاد کرتا ہے۔  نیند نہ ہو تو اِنسان اپنی جدوجہد کے بوجھ تلے دب کر مر جائے۔  نیند ایک مطمئن زندگی کا ثبوت ہے۔  خوش قسمت ہے وہ، جس کی نیند کسی خوف یا کسی شوق سے پریشان نہ ہو۔

اِنسان جب ظلم کرتا ہے،  دوسروں پر اور اپنے آپ پر،  تو اُس کی سزا یہ ملتی ہے کہ وہ نیند میں مضطرب رہتا ہے۔ وہ سوتا ہے تو اُسے اپنے بچھونے پر بچھّو نظر آتے ہیں، احساس کے بچھّو، ندامت و افسوس کے بچھّو۔ اِنسان چاہتا ہے کہ ہونی، انہونی ہو جائے۔  جو ہو چکا،  وہ نہ ہوتا۔  کاش! ایسا نہ ہوتا، کاش! یوں ہو جاتا اور اِسی کاش کے اندر ہی نیندغرق ہو جاتی ہے اور اِنسان بے خوابی کے عذاب میں مبتلا ہو کر رہ جاتا ہے۔

غور سے دیکھا جائے تو نیند کا عالم بیداری کے عالم سے زیادہ ہے۔  عدم کا سکوت،  وجود کے ہنگاموں کے زمانوں سے کہیں زیادہ ہے۔  پیدائش سے قبل کے زمانے مکمل سکوت اور مستقل نیند کے زمانے ہیں۔  ما بعد کا دَور نیند میں ڈوبی ہوئی لا محدود صدیوں کا دَور ہے اور پھر یہ زندگی اپنے اندر نیند کے زمانے رکھتی ہے۔  اوّل نیند ہے، آخر نیند ہے اور درمیان بھی نیند ہی ہے۔  عالمِ بیداری ایک خواب کا عالم ہے، اور یہ خواب کی طرح ہی گزر جاتا ہے۔  درحقیقت،  ہر حقیقت حجابِ حقیقت ہے۔  اصل حقیقت کیا ہے؟ نیند یا بیداری ؟ اِس کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔

Pages: 1 2 3