یہ جیون ایک کہانی ہے اور یہ کہانی بڑی پرانی ہے۔ پہلے بچے کے ساتھ ہی کہانی پیدا ہو گئی اور پھر کہانی سے کہانی— اور پھر کہانیاں ہی کہانیاں— ایک جال ہے کہ بچھا ہوا ہے۔ کچھ پوری کہانیاں ہیں اور کچھ ادھوری— کسی کا آغاز نہیں، کسی کا انجام نہیں—!
کہانی سنانے والا کوئی نہ ہو، تو بھی کہانی خود کو سناتی رہتی ہے۔ سامع نہ بھی ہو، تو بھی کہانی جاری رہتی ہے۔ وجودِ آدمؑ سے پہلے بھی کہانی تھی اور تخلیق آدمؑ کے بعد تو کہانی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا تھا۔ فردوسِ بریں کا قصّہ، طاغوت، ابلیس اور پھر لغزشِ آدمؑ، دانۂ گندم،پھر سفر سُوئے زمیں، فردوسِ گم گشتہ— اور پھر قیام و قرار فی الارض— ایک مکمل کہانی!
اِس کے بعد عروجِ آدمِ خاکی— سب کہانی ہے۔ چھن جانے کے بعد جس مقام کی دوبارہ تلاش شروع ہو جائے، وہی مقام انسان کا بہشت ہے۔ انسانوں کی اقسام کی طرح کہانیوں کی بھی بہت سی اقسام ہیں۔ شاید ہر آدمی کے لیے الگ قسم ہے۔ رونے والوں کے لیے المیہ،ہنسنے والوں کے لیے طربیہ،سیاحت کا شوق رکھنے والوں کے لیے سفر نامے،سیاحت نامے، بہادروں کے لیے رزمیہ، صاحبانِ فکر کے لیے تمثیل نگاری اور علامتی کہانیاں اور کچھ ملامتی کہانیاں۔ مختصر کہانی،طویل کہانی، بامقصد کہانی،بے معنی کہانی،مذہبی کہانی،اخلاقی کہانی،جنسی کہانی،روحانی کہانی،غرضیکہ فانی اور لافانی کہانی—بھول جانے والی کہانی — نہ بھولنے والی کہانی— بس کہانی ہی کہانی ہے۔
کسی علاقے میں جاؤ،وہاں کی علاقائی کہانی —کہیں بھی نہ جاؤ تو تصوّراتی اور تخیلّاتی کہانی — انسان میں جب تک کہانی سننے کا شوق ہے، کہانی رہے گی۔ ہم ایک دوسرے کو کہانیاں سناتے رہتے ہیں،اپنی اپنی داستان — اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر وہی ایک دفعہ کا ذکر—!
کہانی سننے کا شوق بچپن سے ہی پیدا ہوتا ہے، یا کر دیا جاتا ہے۔تمام لائبریریاں کہانیوں سے بھری پڑی ہیں۔ سائنس کے اِرتقاء کے ساتھ سائنسی کہانیاں شروع ہو گئیں۔ انسان کہانیوں سے بچ نہیں سکتا۔ انسانی کہانیاں نہ ملیں تو جانوروں کی کہانیاں موجود ہیں، دانائی اور حکمت کے خزانوں کے ساتھ — مثلاً پیاسا کوّا، لالچی کتّا،اتفاق میں برکت،بے وفا دوست اور ریچھ — نادان اور دانا بکریوں کی کہانی، جو کچھ اس طرح سے ہے۔
کہتے ہیں کہ ایک پہاڑی نالے پر ایک نہایت ہی تنگ پل تھا۔ مشکل سے پاؤں رکھا جاسکتا تھا۔ ایک دفعہ دو نادان بکریاں آمنے سامنے سے پل کے درمیان تک آ گئیں۔ جگہ تنگ تھی۔دونوں نہیں گزر سکتی تھیں۔ واپس جانا بھی مشکل تھا۔ ایک دوسرے کو کوسنے لگیں کہ تم نے میرا راستہ روکا ہے، جھگڑا شروع کر دیا۔ باتوں باتوں میں سینگوں کا استعمال شروع ہو گیا اور پھر — دونوں دھڑام سے نیچے گر گئیں۔ کچھ دیر کے بعد دو دانا بکریاں بھی آمنے سامنے یوں درمیان میں آ گئیں۔ اُنہوں نے غصہ کرنے کی بجائے صورتحال کا جائزہ لیا۔ سینگوں کی بجائے عقل سے کام لیا۔ ایک بکری بیٹھ گئی اور دوسری نے اس کے اوپر سے گزر کر اپنی راہ لی — دونوں بچ گئیں۔