ابھی حالیہ حضرت داتا گنج بخش رح دربار کے بالکل سامنے پرندہ مارکیٹ کو جس طرح مسمار کیا گیا وہ نہایت ہی قابلِ مذمت ہے۔ جانوروں پرندوں کی تجارت یا کاروبا جائز ہے یا ناجائز اس بحث میں جانا نہیں چاہتی۔ کیونکہ دینِ اسلام میں اس سے منع کیا گیا ہے تو کوئی جواز نہیں اس کو کسی بھی طرح جائز قرار دیا جائے۔ لیکن یہاں موضوع لوگوں کے روزگار سے زیادہ اُن معصوم پرندوں اور جانوروں کا قتل ہے۔ جس کو کسی بھی کھاتے میں نہیں لیا جائے گا۔ دکانداروں کے لئیے تو وہ پرندے جانور یقیناً ایک سرمائے کی ہی حیثیت رکھتے ہوں گے لیکن وہ معصوم بے زبان جانیں تھیں جن کے لئیے آواز اٹھانا فرض ہے۔
میں شاید یہ آرٹیکل نہ لکھتی اگر میں خود کسی بے زبان بلی کی محبت میں گرفتار نہ ہوتی۔ میرے پاس روز ایک بلی آتی ہے جس نے مجھے بہت محبت دی۔ یہ بے زبان جانور تھوڑی سی محبت کے بدلے اپنی چند سالوں کی زندگی ہمارے لیے وقف کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن افسوس ساتھ کہ ہمارے معاشرے میں بے زبان جانوروں کے ساتھ انسان ‘جانور’ بن جاتے ہیں۔ کوئی پاؤں سے دھتکار دیتا ہے، کوئی مارتا ہے، کوئی تنگ کرتا ہے، کسی کے بچے بچے اٹھا کر لے جاتا ہے، کوئی ویسے اپنا غصہ اُن پر اتار دیتا ہے۔۔ مجھے لگتا تھا ہمارے محلے میں روحِ دین سے کم آشنائی ہے اس وجہ سے لوگوں کا یہ رویہ ہے تو مسجد میں سیرتِ نبیﷺ کے واقعات سنانے چاہیئے تاکہ ضمیر زندہ ہوں کہ عبادات سے زیادہ معاملات اہم ہیں مخلوقِ خدا کے ساتھ۔۔لیکن جو پرندہ مارکیٹ میں پرندوں اور جانوروں کو گورنمنٹ لیول پر قتل کرنے کے آڈرز دئیے گئے وہ کسی بھی طور پر قابلِ معافی نہیں ہے۔ بلکہ انہوں نے گورنمنٹ لیول پر جانوروں ساتھ ظلم کو جسٹیفائی کر دیا ہے۔ جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کی موجودہ حکومت ہی اسلام کو پیش نہیں کر رہی تو عوامی لیول پر دین کیوں پریکٹس نہیں ہو رہا یہ سوال عوام سے پوچھ نہیں سکتے۔ دوسرا بین الاقوامی سطح پر آپ کیسے پاکستان کی ساخت کو پیش کر رہے ہیں۔
ہم بحیثیت امتی کیوں بھول جاتے ہیں کہ ایسے کام حضورﷺکی ذاتِ مقدسہ کو کتنی تکلیف پہنچاتے ہیں۔ ہمارے نبیﷺ تو جانوروں کو تکلیف و ایذا پہنچانے پر بہت جلال فرماتے ہیں۔ وہاں تو کُتیا راستے میں سو رہی بچوں ساتھ تو جماعت سمیت پورا راستہ بدل دیا حضورﷺ نے چاہے وہ راستہ لمبا تھا۔۔ یہ ہے اسوہِ رسولﷺ۔ حضورﷺ تو ایسے ہیں جو صحابی پرندوں کے بچے اٹھا لائے اور انکی ماں منڈلانے لگی بے چینی سے، تو حضورﷺ نے اُس پر بھی سخت جلال فرمایا کہ اسکی ماں کو کس نے بے چین کیا؟ اس کے بچے واپس رکھیں جائیں۔۔ جو زمین والوں پر رحم کرتا ہے آسمان والا اس پر رحم کرتا ہے۔ اور بلی کو بھوکا رکھنے پر عذاب آنا عورت پر اور پیاسے کتے کو پانی پلانے پر جنت میں جانے والا واقعہ بھی سب جانتے ہیں۔ تو سب جانتے بوجھتے سمجھتے کیسے گورنمنٹ لیول پر اس طرح کے جاہلوں اور ظالموں والے ہتھکنڈے اپنا سکتے ہیں۔ جس سے نہ صرف روحِ دین بلکہ روحِ محمدﷺ کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔ گورنمنٹ کو تو گورنمنٹ لیول پر امن، محبت، اخلاق کا پیغام دینا چاہیئے۔ وہاں سے پیغام آ رہا جانوروں کو روند دو کون پوچھے گا؟ اُنکا کون ہے؟ تو انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ جو تمہارا خالق ہے وہی انکا بھی خالق ہے اور وہ ضرور پوچھے گا۔ اللہ سبحان و تعالٰی سے دعا گو ہوں کہ ہمیں راہِ ہدایت دکھائے اور ظالموں کو ظلم سے روکنے میں ہماری مدد فرمائے۔ ایسے واقعات جو تیرے عذاب و جلال کو دعوت دیتے ہیں ہم تیری بارگاہ میں نادم و شرمندہ ہیں کہ ہمیں معاف فرما کہ ہم برائی کو دل میں تو بُرا جان رہے ہیں مگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ لیکن اے میرے مالک! تُو قادر ہے تو ہمارے حال پر رحم فرما اپنے محبوب کے صدقے۔
اجتماعی سطح پر جو ہوا سو ہوا۔ لیکن انفرادی سطح پر ہم سب کا فرض ہے کہ ہم معصوم و نرم دل رکھیں۔ سائل سائل ہوتا ہے کسی بھی روپ میں ہو۔ اور حکم ہے کہ سائل کو جھڑکی نہ دو۔ تو اگر آپ کے دروازے پر کوئی پرندہ، جانور کھانا کھانے کی امید سے آتا یے تو آپ کو چاہیئے آپ اُسکی حاجت روائی کریں۔ نہیں کر سکتے تو کم از کم انہیں ماریں، دھتکاریں مت۔ کیونکہ جو اپنا کیس نہیں لڑتا اُسکا وکیل بھی اور جج بھی اللہ کی ذات ہوتی ہے۔ تو بے زبانوں پر رحم کریں تا کہ آپ پر رحم کیا جاسکے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اخلاقیات، محبت، جانوروں پر رحم سبق ہمارا تھا اِس پر عمل باہر ممالک میں کیا جا رہا ہے اور ہم ظلم و ستم کر رہے ہیں معاملات میں اور عبادات پر زور دیا ہے۔ جبکہ دنیا آپ کے معاملات دیکھتی ہے۔ بہترین دین، اور وارثِ دین ہونے کے باوجو ہم وہ نہیں بن پا رہے جو ہمیں ہونا چاہیئے۔ اور وجہ؟ اسکی وجہ یہ کہ ہماری ترجیحات ہی غلط ہیں۔ ہمیں یہ نصب العین ہی نہیں دیا گیا کہ ہم نے دنیا کو لیڈ کرنا ہے اپنے کردار و اخلاق سے۔
دعا گو ہوں کہ اللہ سبحان و تعالٰی ہمارے معاملات، کردار اور سیرت کو ایسا روشن کرے کہ اِسکی روشنی سے تمام ممالک کی آنکھیں چندیا جائیں۔ اللہ سبحان و تعالٰی ہماری روح، وجود، کردار، راستہ کو نورِ محمدﷺ سے روشن فرمائے۔ آمین ثمہ آمین۔
سدرۃالمنتھٰی