خُلق ِ عظیم

khulq e azeem

حکمائے عالَم نے سب سے بڑے اخلاق کے بارے میں دنیا کو جو معیارِ اخلاقیات دیا، وہ سب انسانوں کا تصوّر ہے اور انسانی تصوّر میں نفس کا ہونا بعید اَز قیاس نہیں ہو سکتا۔ اِس کے برعکس جو معیار اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا، وہ ہر خامی سے آزاد ہے۔ خالق ہی بہتر جانتا ہے کہ مخلوق کے لیے کون سا معیارِ اخلاق بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی ذات میں یہ فیصلہ فرما دیا کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ اس کے بعد اخلاق کا بہترین نمونہ حضور ﷺ کی ذاتِ گرامی ہے۔

تکمیلِ انسانیت کا نقطۂ عروج حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔ تکمیلِ ذات میں تکمیلِ اخلاق کا دعویٰ اپنی تکمیل کے ساتھ موجود ہے۔ ذات کامل ہو تو صفت مکمل ہو جاتی ہے۔ ذات اور صفات کا رشتہ عجب ہے۔ کبھی صفت ذات کی پہچان ہے اور کبھی ذات صفت کی۔ مثلاً اگر صفت صداقت ہے تو ذات صادق ہی کہلائے گی، لیکن اگر ذات حضور ِاکرم ﷺ کی ہو، تو آپ ﷺ  ایسے صادق ہیں کہ آپ ﷺ جو بھی فرمائیں، وہی صداقت ہے۔

آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی اتنی مکمل ہے کہ آپ ﷺ کے دَم سے ہی صفات کی تکمیل ہوئی، صفات کو مرتبہ ملا،  صفات کو تقدّس ملا،  پہچان ملی، عروج ملا۔ ایک عام آدمی سچ بولے تو ہم اِس سچ کی تحقیق کر سکتے ہیں، عقل کے ذریعے سے،مشاہدے کے ذریعے سے،  لیکن ایک پیغمبر اور خاص طورپرحضورِ اکرم ﷺ کی صداقت ہماری تحقیق سے بلند و    ماورأ ہے۔

حضورِ اکرم ﷺ نے زندگی کے معاملات میں جو بھی ارشاد فرمایا، وہ صداقت ہے کہ ان کا مشاہدہ موجود تھا، لیکن کمالِ صفت تو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ کریم کے بارے میں اور مابعد کے بارے میں جو کچھ ارشاد فرمایا، وہ ہماری تحقیق میں نہ آسکنے کے باوجود صداقت ہے، بلکہ صداقتِ مطلق ہے —  اور کمالِ صفت کا یہ اعجاز ہے کہ ہم آپ ﷺ کی ہر بات کو تحقیق کے بغیر تسلیم کرنے کو اپنا ایمان، بلکہ سرمایۂ ایمان سمجھتے ہیں۔

آپ ﷺ سے پہلے پیغمبروں میں رسالت کا رنگ مخصوص اور جزوی تھا۔ آپ ﷺ  کی شخصیت میں رسالت اپنے انتہائی رنگ سے ایسی مکمل ہوئی کہ اِس کے بعد کسی رسول کی ضرورت ہی نہیں —  یعنی آپ ﷺ نے اخلاق کو اِس درجہ مکمل فرمایا کہ اِس کے بعد کسی اور تفصیل کی ضرورت ہی نہیں۔  آپ ﷺ نے انفرادی اور اجتماعی اخلاق میں وہ انقلاب پیدا فرمایا کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔

حضورِ اکرم ﷺ کی تعلیم کا نتیجہ تاریخ نے دیکھا کہ آقا پیدل چل رہا ہے اور غلام سوار ہے۔ آپ ﷺ کے دَم سے گویا اخلاق اور صفات کو سند عطا ہوئی۔ آپ ﷺ کے اخلاق کی یہ تاثیر ہے کہ آپ ﷺ جب ارشاد فرماتے تو سامعین سرجھکا کر اور خاموش ہو کر یوں سنتے جیسے اُن کے سَروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ آپ ﷺ کا حُسنِ اخلاق یہ ہے کہ آپ ﷺ نے جس کو دفعتاً  دیکھا، وہ مرعوب ہو گیا، جو آپ ﷺ سے آشنا ہوا،وہ محبّت اور اَدب کرنے لگ گیا۔

آپ ﷺ نے اخلاق کو تکمیل کا وہ درجہ عطا فرمایا کہ ایک طرف تو اللہ اور اللہ کے فرشتے آپ ﷺ پر دُرود بھیجتے ہیں اور دوسری طرف آپ ﷺ کے جانثار آپ ﷺ کی خدمت میں آج تک دُرود  و  سلام اور نعت کا ہدیہ پیش کرتے آرہے ہیں— اپنے تو اپنے، بیگانے بھی آپﷺ کو عقیدت کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ آج بھی چودہ سو سال کی دُوری کے باوجود آپ ﷺ دِلوں کے قریب ہیں۔

آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس میں جہاں اللہ کریم نے انسانیت کی تکمیل فرمائی،  نبوّت کی تکمیل فرمائی، وہاں اخلاقِ جلیلہ کی تکمیل بھی فرما دی۔ آپ ﷺ کا کردار، کردار کی انتہا ہے۔  آپ ﷺ کا ارشاد،ارشاد کی انتہا ہے اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب آسمانی کُتب کا حرفِ آخر۔ آپ ﷺ کے اخلاقِ عالی کا یہ مقام ہے کہ اِسے صداقتِ نبوّت کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیا گیا۔ سورۃ یونس میں ارشاد ہے: ’’میں اِس  سے  پہلے تم لوگوں میں ایک عمر بسر کر چکا ہوں، کیا تم سمجھتے نہیں“۔ گویا اعلانِ نبوّت سے پہلے آپ ﷺ کی چالیس برس کی تمام عمر بھی مرقّعِ اخلاق ہے۔

نبوّت اخلاق کا نتیجہ نہیں، اخلاق نبوّت کی عطا ہے  —  اور نبوّت، اور پھر آپﷺ کی نبوّت،    کمالِ عطائے الہٰی ہے۔ جب اللہ کریم اپنے حبیبﷺ کو اخلاق کا معیار بنا کر پیش کرے تو وہ اخلاق کتنا مکمل ہو گا، اِس کا اندازہ مشکل نہیں۔ دراصل اخلاق ایک ایسی راہِ عمل ہے  جس پر چلنے والے انسان کا کردار مخلوقِ خدا کے لیے بے ضرر اور منفعت بخش ہوتا ہے۔ انسانی سوچ اخلاق کا جو معیار دیتی ہے، وہ قابلِ تاثیر ہو سکتا ہے لیکن جب پیغمبر اخلاق کا معیار دے تو وہ معیار خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور خالق بہتر جانتا ہے کہ مخلوق کے لیے کون سا کردار بہتر ہے۔

حضور اکرمﷺ کے اخلاق کے بیان کے بارے میں جہاں تاریخ گواہ ہے، وہاں قرآن بھی شاہد ہے:  ” بے شک (اے پیغمبرﷺ)! آپ اعلیٰ اخلاق پر فائزہیں“۔ حضورﷺ کا اپنا ارشاد تکمیلِ اخلاق کے ضمن میں ایک مینارۂ  نُور کی طرح درخشاں ہے۔ ارشاد  ہے:’’میں حُسنِ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں“۔ اور یہ کہ ’’میں تو اسی لیے بھیجا گیا ہوں کہ مکارمِ اخلاق کا معاملہ تکمیل تک پہنچاؤں“۔ شاید ہی کوئی ایسی اخلاقی صفت ہے جس کو اپنانے کی آپﷺ نے تلقین نہ فرمائی ہو اور جس پر آپﷺ نے خود عمل کرکے نہ دکھایا ہو۔ آپﷺ  نے زندگی کو اخلاق کی تفصیل اور تکمیل بنا دیا۔

آپﷺ محافظِ اخلاق ہیں،مفسّرِ اخلاق ہیں، مظہرِ اخلاق ہیں، منبعِ اخلاق ہیں،مجسّم اخلاق ہیں، بلکہ مکمل اخلاق ہیں۔ آپﷺ کی اخلاقی رفعتوں کا بیان دراصل آپﷺ کی پوری سیرت کا بیان ہے۔ اِخلاق کی جزئیات میں آپﷺ کے ہاں استقامتِ عمل ہے، حسنِ سلوک ہے، حسنِ معاملہ ہے، عدل و انصاف ہے، جُو د  و   سخا ہے،ایثار ہے، مہمان نوازی ہے، سادگی اور بے تکلفی ہے، شرم و حیا ہے، عزم و استقلال ہے، شجاعت ہے، صداقت ہے، امانت ہے، ایفائے عہد ہے، زہد و تقویٰ اور قناعت ہے، عفو و رحم ہے، کفار اور مشرکین سے حُسنِ سلوک ہے، غریبوں کے ساتھ محبّت ہے، حیوانات اور پرندوں پر رحم ہے، رحمت و محبّت عام ہے، رقیق القلبی ہے، عیادت و تعزّیت ہے، اَولاد سے محبّت ہے، غرضیکہ حسنت جمیع خصالہٖ۔

آپﷺ کے بارے میں کیا لب کشائی کی جا سکتی ہے۔ آپﷺ کے اخلاق اور اَوصاف کا ذکر احادیث اور سیرت کی کتابوں میں بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ آپﷺ کی زندگی کا ایک ایک واقعہ اخلاق و اوصاف کی تفسیر نظر آتا ہے۔ آپﷺ کے اخلاق میں سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ آپﷺ نے جس اخلاق کا پرچار کیا، اُس پر مکمل طور پر عمل کرکے بھی دکھایا۔ آپﷺ کی ذاتِ اقدس تمام انبیائے کرام اور مصلحینِ عالَم میں واضح طور پر  اِس لیے ممتاز ہے کہ آپﷺ کا عمل آپﷺ کے علم کا شاہد ہے۔ حدیثِ نبویؐ اور سنّتِ نبویؐ میں تطابق ہے۔

آپ ﷺ کا کمالِ اخلاق یہ ہے کہ وہ  دَور جس میں صداقت، دیانت اور امانت کے چراغ گل ہو چکے تھے، آپ ﷺ نے اپنے پاکیزہ کردار سے اُس دَور میں ”الصّادق“ اور  ”الامین“ کے القاب حاصل کیے، اور وہ بھی مخالفین سے۔ آپ ﷺ کے قریب رہنے والے سبھی لوگ یک زبان یہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نہایت نرم مزاج، خوش اخلاق اور نیک سیرت تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے کبھی برائی کے بدلے میں برائی سے کام نہیں لیا۔ آپ ﷺ ہمیشہ درگزر فرماتے، معاف فرما دیتے۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی کا دِل نہیں دکھایا۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی کو بات کرنے کے دوران میں  ٹوکا نہیں۔ آپ ﷺ خندہ جبیں، نرم گفتار اور مہربان تھے۔

آپﷺ پر جب پہلی بار وحی نازل ہوئی تو آپﷺ نزولِ وحی کی شدّت سے گھبرائے اور آپﷺ پر لرزہ طاری ہو گیا۔ آپﷺ نے گھبرا  کر رفیقۂ حیات سے اپنی کیفیت کا ذکر فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا خوف ہے۔ حضرت خدیجہؓ نے آپﷺ کو تسلّی دی اور آپؐ کے اخلاق کے بارے میں یہ کہا: ’’ہرگز نہیں! خدا کی قسم! خدا آپؐ کو کبھی اندوہ گیں نہ کرے گا۔  آپؐ عزیزوں اور رشتے داروں سے حسنِ سلوک کرتے ہیں۔ ناتواں،بے کسوں اور غریبوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا، اُسے دیتے ہیں،  مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں، مصائب میں حق کے معاون و  مددگار ہیں اور آپؐ میں وہ تمام صفات ہیں کہ آپؐ صادق القول ہیں“۔ آپﷺ کے قبلِ نبوّت کے اخلاق کا گواہ حضرت خدیجہؓ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے۔ آپﷺ داعیِ حق ہونے کی حیثیت سے اپنی تعلیم کا افضل و اعلیٰ نمونہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں انسانی زندگی کے لیے جس انسانی اخلاق کی تعلیم فرمائی، اُس کا عملی مظہر سرکارﷺ کی ذاتِ گرامی ہے۔ حضورِ اکرمﷺ کو اِس بات کی پوری آگہی تھی کہ آپؐ کو دنیا کے لیے معلّمِ اخلاق بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپﷺ کے اعمال اور آپﷺ کے اقوال اِس بات کا مکمل ثبوت ہیں۔ اخلاق کی تکمیل آپﷺ کے دَم سے ہوئی۔

آپﷺ کے چند ارشادات ملاحظہ ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا : ” کامل ایمان اُس مومن کا ہے جس کا اخلاق اچھا ہے“ —” اعمال کے ترازو میں حُسنِ خُلق سے بھاری کوئی نیکی نہیں“ — ” انسان حسنِ اخلاق سے عبادت کا درجہ حاصل کر سکتا ہے“ — ” تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں“۔    حضورِ اقدسﷺ سے ایک مرتبہ سوال کیا گیا: ’’کون سی نیکی بہتر ہے؟“ آپﷺ نے فرمایا :’’کھانا کھلانا اور سب کو سلام کہنا“۔  یعنی سب کو سلامتی کی دُعا کا پیغام پہنچانا۔

حضرت ابوذر غفاریؓ نے ایک مرتبہ اپنے کسی غلام کو بُرا بھلا کہا۔ حضورِ اکرمﷺ نے سُن لیا۔ فرمایا: ’’ابو ذرؓ ! ابھی تم میں جہالت باقی ہے، غلام تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے، جس کا بھائی ماتحت ہو، اُسے چاہیے کہ بھائی کو ویسا ہی کھانا کھلائے جیسا خود کھائے،ویسا ہی پہنائے جیسا خود پہنے،  بھائی سے ایسا کام نہ لے جو اُس سے نہ ہو سکے،  کوئی سخت کام ہو تو اس کی مدد کرے“۔

حضورﷺ کے اخلاقِ عالی میں حسنِ سلوک کو بڑی اہمیت ہے۔ آپﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا: ’’قسم ہے! وہ ایمان نہیں لایا، خدا کی قسم! وہ ایمان نہیں لایا، خدا کی قسم! وہ ایمان نہیں لایا“۔  صحابہؓ نے عرض کیا: ”یا رسولؐ اللہ! کون؟“ آپﷺ نے فرمایا: ’’جس کا پڑوسی اُس کے شر سے محفوظ نہیں“۔

آپﷺ کی زندگی کے واقعات اور آپﷺ کے ارشادات میں ایسے ہزار ہا  پہلو سامنے آتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺ حسنِ اخلاق کی تکمیل کے لیےتشریف لائے۔ کون سی ایسی خوبی ہے جو آپﷺ کی ذات میں موجود نہ ہو۔ آپﷺ نرم مزاج تھے، خوش گفتار تھے، متین تھے، حلیم الطبع تھے، کسی کی دل آزاری نہ فرماتے۔ آپﷺ کی مجلس میں نئے آنے والوں کو جگہ نہ ملتی تو آپؐ  اپنی رِدائے مبارک بچھا دیتے۔ بچوں پر تو آپﷺ اِس حد تک شفیق تھے کہ مشرکوں کے بچوں پر بھی رحم کرنے کا آپؐ نے حکم فرمایا۔  غلاموں پر آپﷺ کی شفقت کا یہ عالم تو اِس بات سے بھی واضح ہو جاتا ہے کہ آج بھی آپؐ کی غلامی ہی سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ آپﷺ نے ہمیشہ غریبوں اور بے کسوں سے عملی ہمدردی کا اظہار فرمایا۔ آپﷺ نے دنیا میں مساوات کا اعلیٰ ترین نمونہ قائم کیا۔ فتح    مکہ کے بعد آپﷺ کا ارشاد ہے: ’’اے گروہِ قریش! اللہ نے جہالت کا غرور اور نسب کا افتخار مٹا دیا۔ تمام لوگ آدمؑ کی اولاد ہیں اور آدمؑ مٹی سے بنے“—  اور خُلق کا یہ عالم ہے کہ آپﷺ کے پاس خُلقِ عظیم ہے۔ آپﷺ کا ارشاد ہے : ’’ہر دین کا خُلق ہوتا ہے اور اِسلام کا خُلق حیا ہے“۔

آپﷺ کے پاس جو صفت بھی موجود ہے، دائم ہے۔ آپﷺ دائم الرّضا ہیں، دائم الزّہد ہیں، دائم الشّوق ہیں، دائم الصّبر ہیں، دائم الصّدق ہیں،  دائم الامر ہیں اور  دائم الفکر ہیں۔ غرضیکہ آپﷺ ہمہ صفت موصوف ہیں۔ حُسن آپﷺ کی صفت ہے اور صفت آپﷺ کا حُسن۔ آپﷺ ہمیشہ ہشاش بشاش رہے اور اللہ تعالیٰ کے خوف اور اللہ کی محبّت نے آپﷺ کو دنیا کے خوف اور محبّت سے آزاد کر دیا۔ حضرت سعد بن ہشامؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے پوچھا : ’’اے ایمان والوں کی ماں!  حضورِ اکرمﷺ کے اخلاق کے بارے میں کچھ بتائیں“۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : ’’تم نے قرآن نہیں پڑھا ؟“ انہوں نے کہا: ’’قرآن تو پڑھا ہے“۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا : ’’حضورِ اکرمﷺ کا خُلق قرآن تھا“۔   یعنی آپﷺ قرآنِ مجسّم تھے۔ آپﷺ کا اخلاق ہی منشائے قرآن کے عین مطابق ہے۔ قرآن کو پڑھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قرآن جس اخلاق کی تعلیم دے رہا ہے، وہ حضورﷺ ہی کا  اخلاق ہے اور حضورﷺ کی زندگی اور آپﷺ کے اخلاق کو دیکھیں تو یوں نظر آتا ہے کہ آپﷺ کا اخلاق قرآن ہی کا اخلاق  ہے۔ اللہ کا پسندیدہ اخلاق آپﷺ کی ذات میں اور آپﷺ کا اخلاق اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں موجود ہے۔ اسی لیے آپﷺکے اخلاق کی پیروی ہی رضائے الٰہی کا ذریعہ ہے۔

اخلاقیات کے تمام مکاتب ِ فکر اِس بات پر متفق ہیں کہ رحم اخلاق کی اعلیٰ صفت ہے، اور حضورﷺ کی ذاتِ مبارکہ میں رحم اور رحمت کا یہ عالَم ہے کہ آپﷺ کے بارے میں اِرشاد ہے: وَ مَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ آپﷺ تمام مخلوق کے لیے رحمتِ مجسّم بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اپنا، بیگانہ، مومن،  کافر، چرند پرند، ذی جان، بے جان، مرئی یا غیر مرئی کوئی مخلوق ہو،  آپﷺ کی رحمت کا سایہ سب کے لیے ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے۔ آپﷺ کو جب بھی کسی نے کفار پر لعنت بھیجنے کے لیے کہا، آپﷺ نے ہمیشہ یہی فرمایا: ’’میں لعنت کے لیے نہیں، رحمت کے لیے بھیجا گیا ہوں“۔  روایت ہے کہ حضورِاقدسؐ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا،  آپﷺ کے رعب و جمال سے کانپنے لگا۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اپنے آپ کو سنبھال، میں کوئی بادشاہ نہیں، میں تو قریشی ماں کا بیٹا ہوں، جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی“۔

آپﷺ لغزشوں کو معاف فرمانے والے تھے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے: ’’میں نے حضورِ اقدسؐ کی خدمت کی ہے، میں نے کبھی آپﷺ کو یہ کہتے نہیں سنا کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور ایسا کیوں نہ کیا“۔  غلاموں کے ساتھ شفقت کا یہ عالَم ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: ’’ یا رسولؐ اللہ! غلاموں کا قصور کتنی دفعہ معاف کریں؟“    آپﷺ خاموش رہے۔ اُس نے جب تیسری مرتبہ یہی گزارش کی تو آپﷺ نے فرمایا: ’’ہر روز ستر مرتبہ“۔
حضورِ اقدسؐ اکثر دُعا فرمایا کرتے تھے:’’اے اللہ! مجھے مسکین زندہ رکھ، مسکین اُٹھا، مسکینوں
ہی کے ساتھ میرا حشر ہو“۔ حضرت عائشہؓ نے دریافت کیا: ’’یہ کیوں؟“ آپﷺ نے فرمایا:
’’اس لیے کہ مسکین دولت مندوں سے پہلے جنت میں جائیں گے“۔

آپﷺ کی روزمرہ کی زندگی انتہائی سادہ تھی۔ آپﷺ میں تکلّف اور تصنّع کا  شائبہ تک نہیں تھا۔ لباس، خوراک اور رہائش میں ہمیشہ سادگی سے کام لیتے۔ عمارات اور فضولیات آپﷺ کو ناپسند تھیں۔ واقعہ ہے کہ ایک صحابی نے نیا مکان بنوایا، جس کا گنبد بلند تھا۔ آپﷺ نے دیکھا تو پوچھا: ’’یہ مکان کس کا ہے؟“ لوگوں نے نام بتایا۔ آپﷺ چپ رہے۔ وہ شخص جب حسبِ معمول آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا تو آپﷺ نے منہ پھیر لیا۔ اُس نے پھر سلام کیا، آپﷺ نے پھر منہ پھیر لیا۔ وہ سمجھ گیا کہ ناراضی کی کیا وجہ ہے۔ گھر جاکر گنبد کو زمین کے برابر کر دیا۔ آپﷺ نے جب دوبارہ مکان دیکھا تو ارشاد فرمایا:   ’’ضروری عمارت کے سوا ہر عمارت انسان کے لیے وبال ہے“۔

ایک دفعہ آپﷺ ایک چٹائی پر آرام فرما رہے تھے۔ اُٹھے تو لوگوں نے دیکھا کہ پہلوئے مبارک پر نشان پڑ گئے ہیں۔ عرض کیا: ’’یا رسولؐ اللہ! ہم لوگ کوئی گدّا منگوا کر حاضر کریں!“ آپﷺ نے فرمایا: ’’مجھ کو دنیا سے کیا غرض، مجھے دنیا سے اتنا ہی تعلّق ہے جتنا اُس سوار کو جو تھوڑی دیر کے لیے کسی درخت کے سائے میں بیٹھ جاتا ہے اور پھر اُس کو چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے“۔   آپﷺ نے سادہ زندگی ہی  کو  بلند خیالی کے لیے لازمی قرار دیا۔

دنیا کے تمام مفکرینِ اخلاق نے آج تک جتنے بھی اخلاق کے اصول بنائے ہیں، آپﷺ کی زندگی اُن اصولوں کی مظہر ہے۔ آج کے زَرپرست اور ہوس پرست معاشرے میں شاید یہ بات سمجھنا مشکل ہو کہ وہ انسان جو پیغمبروں کا اِمام ہو، اللہ کا محبوب ہو، قبیلے کا سردار ہو،جس کا نام لوگوں کے ایمان کا حصہ ہو، جس کا علم دِلوں پر جاری ہو، جس کے اشاروں پر لوگ اپنی جان نثار کرنے کو سعادت سمجھتے ہوں، اُس انسان کے جسمِ مقدّس پر کوئی پیوند دار لباس ہو اور پیوند بھی اپنے دستِ مبارک سے لگائے ہوں۔ جس کو دولتِ معراج عطا ہو رہی ہے، عروج کی انتہا ہو رہی ہے، اُس کی زندگی اتنی سادہ ہو کہ اگر حضرت عمرؓ دیکھیں تو اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں کہ قیصر و کسریٰ تو باغ و بہار کے مزے لوٹیں اور آپﷺ اللہ کے پیغمبر ہوتے ہوئے اِس حال میں زندگی بسر کریں، اور پھر حضورﷺ سادگی اور یقین سے یہ ارشاد فرمائیں: ’’اے عمرؓ! تم کو یہ پسند نہیں کہ اُن کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت“۔

حضورِ اقدسؐ نے اخلاقِ انسانی کو تکمیل کے اُس درجے تک پہنچا دیا کہ یہ اخلاقِ آسمانی  ہو گیا۔ اللہ نے انسانوں کے لیے جو بھی اخلاق پسند فرمایا، وہ دراصل اخلاقِ محمدیﷺ  ہے۔ حضورﷺ نے جس اخلاق کو پیش کیا، وہ دراصل اللہ کا پسندیدہ اخلاق ہے۔  کوئی خوبی ایسی نہیں جو حضو رپُرنُورؐ میں نہ ہو۔ آپﷺ ایفائے عہد میں اتنے بلند تھے کہ آپﷺ تین دن تک ایک جگہ کھڑے رہے، ایک انصاری نے آپﷺ سے ٹھہرنے کا وعدہ لیا اور وہ خود بھول گیا۔ تین دن کے بعد جب وہ وہاں سے گزرا، آپﷺ کو دیکھا تو اُسے یاد آیا، لیکن آپﷺ نے اُس سے صرف اتنا کہا کہ تُو نے مجھے بہت تکلیف دی۔

حضورﷺ کے اخلاق کے بارے میں کیا کیا کہا جائے۔ آپؐ نے اللہ سے اُسوۂ حسنہ کی سند لی، دنیا نے آپﷺ کو معلّمِ اخلاق مانا، آپﷺ پر نبوّت کی تکمیل ہوئی، انسانیت کی تکمیل ہوئی اور اخلاق کی تکمیل ہوئی۔ آپﷺ کی ذات کے بارے میں بس یہی  کہا جا سکتا ہے کہ:

سچ آکھاں تے رب دی شان آکھاں
جس شان توں شاناں سب بنیاں

حضرت واصف علی واصفؒ
Harf Harf Haqeeqat by Hz. Wasif Ali Wasif

Facebook
Threads
Pinterest
Twitter
Reddit
Print