ابھی حالیہ ایک روبوٹ نے باقی آٹھ دوست روبوٹس کو اس بات پر مائل کر لیا کہ اب ہم کام نہیں کریں گے۔ یہ خبر سننے میں جتنی مزاحیہ لگ رہی ہے اُس قدر گہری بھی ہے کہ مشین ہو کر اُن مشینوں کو یہ احساس ہو گیا کہ بس بہت ہو گیا، ہم مزید کام نہیں کر سکتے۔ لیکن انسان کام کرتے ہوئے کبھی بھی یہ احساس نہ خود کو دِلا سکا نہ دوستوں کو کہ ہم اِس دنیا میں کسی اور کام کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ مشینوں نے مشین ہونے سے انکار کر دیا، لیکن انسان انسان ہونے کے باوجود مشین بنے رہنے پر بضد ہے۔ ہاں! یہ بات درست ہے کہ انسان کی مجبوری ہے، احساسِ ذمہ داری اُسے کام کرنے پر مجبور کرتی ہے، لیکن اُس کام کو اپنی زندگی ہم خود بناتے ہیں کہ جہاں آٹھ گھنٹے کام کرتے تھے وہاں پیسے کی خاطر بارہ، پندرہ گھنٹے کام کرتے اُسے حیرت محسوس نہیں ہوتی۔ پھر آہستہ آہستہ دل میں انسانوں کی بجائے پیسے کی اجارہ داری ہو جاتی ہے۔ انسان انسان سے تو دور ہوتا ہی ہے، اپنے رب سے بھی دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ پیسے کی دوڑ میں اپنے آس پاس والوں سے بیزار ہو جاتا ہے۔ جو خود کو بھی نہ پا سکے وہ اِس کائنات میں کیا ہی پائے گا؟ اُسے یہ زعم ہوتا ہے کہ میں پیسے سے سب حاصل کر لوں گا، لیکن سکون، احساس، محبت، اپنائیت، خلوص، وفا، عزت – یہ سب پیسے سے حاصل نہیں ہوتا۔ اِس کے لیے وابستہ انسانوں کے ساتھ قلبی تعلق ہونا ضروری ہے۔
رب سے تعلق – وہ تو پیسوں سے بالکل نہیں بنتا۔ اُس نے نہ آپ کا لباس دیکھنا، نہ ڈگریاں، نہ کیریئر ٹرافیز، نہ بینک بیلنس – اُس نے وفا دیکھنی ہے کہ اِس بے وفا، مادیت پرستی کی دنیا میں یہ میرا کتنا رہا۔ اللہ سبحان و تعالٰی تو اِتنا غیرت مند محبوب ہے کہ اگر اُس کے علاوہ کسی کی رضا کو چاہیں تو پھر اُن کے ہی حوالے کر دیتا ہے۔ ائمہ کرام کے ارشادات میں بارہا یہ جملہ ہے کہ “جو خالق کی رضا پر مخلوق کی خوشنودی کو ترجیح دیتا ہے تو پھر اللہ اُسے مخلوق کے ہی حوالے کر دیتا ہے۔” اور اُس کے متضاد بھی ارشاد ہے کہ “جو اللہ کی رضا کی خاطر مخلوق کو خاطر میں نہیں لیتا، پھر اللہ اُس کے سارے معاملات میں اُس کی کفالت کرتا ہے۔” ذہین شاہ تاجیؒ کا شعر ہے:
؎ وفا ہی جوابِ وفا چاہتا ہوں
جنونِ محبت یہ کیا چاہتا ہوں
آج کل خاموش شاموں کا موسم آیا ہے، تو اِس خاموشی کو اپنے اندر موجود خاموشی سے ہمکلامی کا موقع دیں۔ بھاگتے بھاگتے ٹھہر کر، خاموشی سے تنہا کہیں بیٹھ کر خود احتسابی کریں کہ میں کہاں کھڑا ہوں؟ جس مقصد کے لیے اِس دنیا میں بھیجا گیا ہوں، اُس مقصد کو کتنا مکمل کر رہا ہوں؟ وہ مقصد کیا ہے؟ اُس مقصد کو پایۂ تکمیل پہنچانے کے لیے میرے پاس کون سا جوہر موجود ہے؟ ایسا کیا خداداد صلاحیت مجھ میں ہے کہ میں رب کو پا سکوں یا اُس صلاحیت سے اللہ سبحان و تعالٰی کا قرب محسوس کر سکوں؟ ہاں! ہر انسان میں ایک تخلیقی جوہر ایسا ضرور موجود ہوتا ہے جو اُس کو اللہ سبحان و تعالٰی سے جوڑنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ جیسے لکھنا، مصوری، گانا – کہ ان میں سے کچھ وہ کرتا ہے تو وہ اللہ سبحان و تعالٰی کے ساتھ ایک خاص ربط میں آ جاتا ہے۔ اُس کی روح، روحِ کائنات کو اپنے اندر محسوس کرتی ہے۔ وہ عمل کرتے ہوئے انسان اِس دنیا میں رہتے ہوئے بھی اُس کی قید سے آزاد ہو جائے اور کسی اور دنیا میں پہنچ جائے۔ ایسا عمل، ایسی بے خودی – انسان کی روح کی غذا ہے۔ اور یہ بات طے شدہ ہے کہ اگر بھوک نہ مٹائی جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔ روح کی موت تو نہیں ہوتی، لیکن ہاں اُس پر کثافت کے پردے اتنے پڑ جاتے ہیں کہ پھر وہ بیدار ہونا ہی بھول جاتی ہے۔
روح کی بیداری اور زندگی کے لیے ضروری ہے لطیف، پاکیزہ انسانوں کی صحبت اختیار کی جائے اور مادہ پرستوں سے جتنا ہو سکے اپنا دامن بچایا جائے۔ اُن انسانوں کے ساتھ رہا جائے جنہیں انسان ہونے کا ادراک ہو اور ساتھ میں نائبِ خدا ہونے کا احساس بھی۔ یہی وہ صحبت ہے جو آپ کو آپ سے ملواتی ہے۔ ہاں، اور اِس صحبت کا مطلب کوئی بیس پچاس لوگوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اِس کائنات میں ایک بھی ایسا مل گیا تو آپ کے لیے کافی ہوگا۔ عُرفا کہتے ہیں کہ محفل مجمع کا نام نہیں – دو اہلِ دل بیٹھے ہوں تو وہ بھی محفل ہے۔ اُس کا یقین آپ کے سفر کے لیے روشنی ہوگا بلکہ آہستہ آہستہ سمجھ آئے گا کہ ہمسفر ہی درحقیقت منزل بھی ہے اور سفر بھی۔ روح کا سفر کسی ذی روح کے بغیر ممکن نہیں۔ دعا گو ہوں کہ اللہ سبحان و تعالٰی ہماری روحوں کو اپنے نور سے منور کر دے، ہمارے سفر کو اپنے نور سے روشن کر دے۔ آمین ثم آمین۔
سدرۃ المنتہیٰ