ہم معلوم کو علم کہتے ہیں،  حالانکہ نا معلوم اور لا معلوم بھی علم ہے،  اُتنا ہی اہم جتنا معلوم۔  اگر ہم یہ کہہ دیں کہ معلوم کی نفی کا نام علم ہے،  تو علم کی تعریف صرف یہ ہو سکتی ہے کہ اپنی لا علمی کے احساس کا نام علم ہے۔  جتنا معلوم زیادہ ہو گا،  اُتنا ہی احساسِ لا علمی زیادہ ہو گا۔  اِس لیے جاننے والے اکثر یہی کہتے رہے کہ وہ کچھ نہیں جانتے۔

کائنات میں اتنے علوم ہیں کہ اِن کی اقسام گنوانا دشوار اور نا ممکن ہے۔  کچھ چیزوں کے بارے میں بہت کچھ جاننا،  ممکن ہے۔  بہت سی چیزوں کے بارے میں کچھ کچھ جاننا،  ممکن ہے۔ سب چیزوں کے بارے میں سب کچھ جاننا،  نا ممکن ہے۔

دراصل علم معلوم سے نجات کا نام ہے۔  یادداشت کا تعلّق ماضی سے ہے اور ماضی کی حاصل کردہ معلومات، حال کا علم نہیں ہو سکتا۔  آج کی کثیر المقاصد زندگی میں یاد داشت کا محفوظ رہنا نا ممکن سا ہے۔  ہمارا حافظہ ترجیحات کے بدلتے ہی کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اِس طرح وہ معلوم یا انفارمیشن،  جو حافظے میں ہوتی ہے،  دھندلا جاتی ہے۔  زندگی کے پیہم انقلابات،  حادثات اور سانحات حافظے کو مفلوج کر دیتے ہیں،  اور حافظے کا علم حافظے سے باہر ہو جاتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا آیا ہے کہ کسی مصنّف کو اپنی ہی تصنیف کچھ عرصہ بعد اجنبی سی لگتی ہے۔  اِنسانی حافظے کا یہ عالم ہے کہ اِنسان کو پُرانے چہرے تو یاد رہتے ہیں،  پُرانے دوستوں کے نام بھول جاتے ہیں۔ اپنی آنکھوں سے گزرے ہوئے جلوے بھول جاتے ہیں۔ اِنسان موت دیکھے تو زندگی بھول جاتی ہے،  زندگی دیکھے تو موت یاد نہیں رہتی۔ آج کا اِنسان کمپیوٹر میں یادداشت محفوظ کرتا ہے اور کمپیوٹر سے علم لینے والا خود ہی ایک کمپیوٹر بن کے رہ جاتا ہے۔

علم لائبریریوں سے دست بردار ہونے کا نام ہے۔  لائبریریاں بلاشبہ معلومات کا خزانہ ہیں۔ کتابوں کا مطالعہ ایک اعلیٰ مصروفیت ہے،  لیکن کتاب زندگی نہیں ہے۔ زندگی آنکھوں کے سامنے سے گزر رہی ہے۔  زندگی سانس کی نازک ڈوری ہے۔ پَل پَل کٹتی جا رہی ہے۔ زندگی اپنے گردوپیش کی حرکات و اعمال کا نام ہے۔  سکالر زندگی کے میدان میں کمزور رہ جاتا ہے۔  علم کتاب کا نام نہیں۔ کتاب حقیقت کا عکس تو ہے  لیکن حقیقت کے برعکس ہے۔  حقیقت کا ذکر کتاب میں ہے اور حقیقت کا مشاہدہ کتاب سے باہر ہے۔  نظارہ علم کا نہیں،  نظر کا محتاج ہے،  بلکہ اندازِ نظر کا محتاج ہے۔  زاویۂ نظر بدل جائے تو منظر اور پس منظر بدل جاتے ہیں،  لیکن کتاب نہیں بدلتی۔  کتاب کا نہ بدلنا اِس کا حُسن ہے اور زندگی کا بدلتے رہنا اِس کا جمال ہے۔  کتاب زندگی کے خدوخال واضح کرتی ہے لیکن زندگی کا لطف زندگی کے قرب میں ہے،  کتاب کے تقرّب میں نہیں۔

مقدّس کتابیں نازل فرمانے والے نے زندگی بھی نازل فرمائی ہے۔ حُسن بھی نازل فرمایا ہے۔  بینائی بھی عطا فرمائی ہے۔  نظاروں کی رعنائی بھی نازل فرمائی ہے۔ کتاب،  قانون ہےپہچان کا،  لیکن پہچان کتاب کی نہیں،  کتاب بھیجنے والے کی درکار ہے۔ کتابِ فطرت کا مطالعہ ضروری ہے۔ علم کتاب سے نہیں،  نصیب سے ملتا ہے۔

Pages: 1 2 3 4