سورج سے کسی نے اُس کا مذہب پوچھا۔ وہ خاموش رہا،مسکراتا رہا۔ سوال دہرایا گیا تو سورج نے کہا: ”آنکھ ملا کے سوال کرو“۔ اُس نے کہا:” تم سے آنکھ تو نہیں ملا سکتے،تم اتنے تابناک ہو“۔ سورج نے کہا: ”تم خود سوچو،میرا مذہب کیا ہے“۔ سائل سمجھ گیا کہ سورج کا مذہب اِسلام ہے۔ اِس کا تذکرہ قرآن میں ہے۔ پھر اُسے معاًخیال آیا کہ قرآن میں تو کفّار کا بھی ذکر ہے، شیطان کا بھی ذکر ہے۔ وہ بڑا پریشان ہوا۔ اِس سوچ میں گم ہو گیا کہ آخر سورج کا مذہب کیا ہے۔ وہ سوچ کے سمندر میں غوطہ زَن تھا کہ اُسے آواز آئی:”نادان! سورج کا مذہب صرف روشنی ہے، نُور ہے“۔ یہ مذہب اُسے فطرت نے،بلکہ فاطِرنے عطا کیا ہے۔ سورج، چاند، ستارے اپنے اپنے مذہب پر کار بند ہیں۔ یہ اُن کا مدار ہے۔ اُن کے لیے مدام گردشوں کا مذہب مقرر ہو گیا ہے اور وہ کفر و اسلام کے تفرقوں سے آزاد ہیں۔ سب کے لیے یکساں ہیں،رنگ و نسل سے آزاد،عذاب و ثواب سے بے نیاز!
اُس نے سوچا کہ یہ عجیب بات ہے کہ مذہب سب کا الگ ہے اور خالق سب کا ایک ہے،تعجب ہے! ایسے نہیں ہو سکتا۔ اُس نے سوچا اور وہ سوچتا ہی چلا گیا۔ اللہ تو قادرِ مُطلق ہے،خلّاقِ عظیم ہے۔ اللہ نے اِبلیس کو پہلے دن ہی ”ٹھاہ “ کیوں نہ کر دیا— نہ ابلیس ہوتا،نہ یہ بکھیڑے ہوتے۔ یہ رنگ رنگ کے نیرنگ، یہ فرق فرق کے فرقے، یہ عہد عہد کے معبد،یہ الگ الگ سجدے، یہ روپ روپ کے بہروپ، یہ ایک آدم اور کئی انسان، یہ ایک خدا اور اُس کی جدا جدا عطا— یہ عجیب صورتِ حال ہے— مذہب اور پھر مذاہب۔ اگر سب مذاہب سچ ہیں تو مذہب کیا ہے، اور اگر سب مذاہب سچ نہیں تو مذہب کیا ہے؟
مذہب کے نام پر دنیا میں کیا کیا نہیں ہو چکا۔ مذہب کی آڑ میں کیا کیا نہیں کیاجا چکا۔ مذہب کی حفاظت میں کیا کیا نہیں قربان ہوا، اور پھر مذہب انسان کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
لا مذہب بھی اپنے لیے ایک مذہب رکھتا ہے۔ وہ اپنی ”لا مذہبیت“ پر ایسے کار بند ہے جیسے مذہب والا اپنی ”مذہبیت “ پر!
کافر خود کو اپنے کفر کا مومن سمجھتا ہے اور مومن کبھی کبھی اپنی کئی کافرانہ حرکات و عادات کو ایمان ہی کا حِصّہ سمجھتا ہے۔ وہ صرف لباس مذہبی اختیار کرتا ہے اور اعمال— چلو اعمال کا ذکر چھوڑو،کوئی اور بات کرو! اعمال کا ذکر کیسے چھوڑیں؟ کوئی اور بات کیسے کریں؟ مذہب گناہ کی سزا دیتا ہے، گنہگار کو اپنے دامن سے دُور نہیں کرتا۔ یہی تو عجب بات ہے کہ مذہب بھی جاری رہے اور بُرائی بھی قائم رہے۔ بُرا اِنسان اچھا مذہب اختیار کر لینے کے باوجود بُرا،اور تعجب ہے کہ اچھا اِنسان مذہب اختیار نہ کرنے کی وجہ سے پھر بُرا۔ یہی مذہب کی آمریّت ہے کہ وہ ایک غیر مُبدّل نظامِ تعزیر رکھتا ہے۔ جو مذہب کو نہ مانے،اُس کے لیے ایک جہنم،نارِجہنم،عذاب،عبرت مقرر ہے، اور جو مذہب کو مانے اُس کے لیے ایک ایسا راستہ ہے جس پر چلنا اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک اللہ مدد نہ فرمائے اور اللہ کی مدد مقدّر والوں کے حصّے میں آتی ہے۔ آج کا انسان مذہب سے آزاد ہونا چاہتا ہے۔ کیوں؟ مذہب نے اُس کا کیا بگاڑا ہے؟ مذہب کی موجودگی میں وہ اپنے گناہوں پر ندامت کرنے پر مجبور ہے۔