کہتے ہیں ،اور کہنے والے بڑے بزرگ لوگ ہیں اور بزرگوں کے کہے ہوئے میں دوسرے بزرگوں نے اضافے بھی کیے ہیں— تو میں کہہ رہا تھا کہ کہتے ہیں،اضافے کے ساتھ—کہ ایک بستی میں چار افراد تھے۔ اُس بستی کی کُل کائنات یہی چار افراد ہی تھے۔ یہی تھا سرمایۂ دِین و ایمان۔ اُس بستی کی ساری بساط یہی چار افراد تھے یا یوں کہیے کہ یہی چار تنکے تھے اُس آشیانے کے۔ بہر حال وہ چاروں افراد اپنے اپنے احساس میں اور اپنے اپنے مفروضے میں ماہر تھے۔ اُن کو اپنے فن پر ناز تھا اور اُن کا فن ایک اندازہ تھا، ایک مفروضہ تھا، اُن کی غالباً مجبوری تھی۔
اُن میں ایک آدمی اندھا تھا— بڑا باتونی، بڑا فنکار، بڑا ہوشیار، بڑا نابغۂ رُوزگار۔ اُس کے پاس سب کچھ تھا،گفتگو تھی،جواز تھے، بیانات تھے۔ کیا نہیں تھا اُس کے پاس،لیکن مجبوری صرف یہ تھی کہ وہ اندھا تھا۔ اندھا ہونے کے باوجود اُسے اپنی کورچشمی کا اِحساس تک نہیں تھا،بلکہ اِس کے برعکس اُسے اپنی دُور بینی پر ناز تھا۔ وہ ستاروں کی بات کرتا، ستارہ شناسی کا ذِکر کرتا۔ دُنیا میں ہونے والا ہر واقعہ گویا اُس کے رُوبرو تھا،کیونکہ اُس نے تو صرف جھوٹ ہی بولنا تھا اور جھوٹ کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں۔ وہ اپنے تینوں ساتھیوں کو واقعات سناتا اور اُنہیں بتاتا کہ اُس پر ہر چیز آشکار ہے۔
دُوسرا آدمی — دُوسرا آدمی ہمیشہ دُوسرا ہی ہوتا ہے۔ اندھے کے مقابلے میں دُوسرا آدمی بہرا تھا۔ اُسے بہرا ہی ہونا چاہیے تھا۔ وہ شخص بڑے کمالات کا مالک سمجھتا تھا خود کو، وہ اِس کائنات کے نغمات کو سننے کا دعویٰ رکھتا تھا اور بیچارہ سماعت سے محروم تھا۔ وہ کسی کی کچھ نہیں سنتا تھا — مجبور تھا، بے بس تھا۔ دُور کی آوازیں اور قریب کے نغمے سننا اُس کا دعویٰ تھا۔ وہ افواہوں کا سرچشمہ تھا۔ وہ بات شروع کرتا تو کہتا: ”بھائیو! مَیں نے سنا ہے کہ ایک بڑا واقعہ بلکہ معرکہ ہونے والا ہے“۔ اُس سے کوئی نہ پوچھتا کہ تُو نے کہاں سے سنا ہے۔ اپنے پاس سے باتیں بنانے والے سے کون پوچھ سکتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیوں کہہ رہا ہے۔ بہرحال بہرا اِنسان اخبارِ جہاں سناتا تھا اور اپنے ساتھیوں کو اپنی سماعت کی کرشمہ کاریاں سنا سنا کر مرعوب کرتا تھا۔ اُس کے تینوں ساتھیوں نے اُسے برداشت کرنا سیکھ لیا تھا۔ وقت گزر رہا تھا۔
تیسرا آدمی چیتھڑوں میں ملبوس تھا لیکن اُس کا خیال بلکہ حُسنِ خیال،بلکہ حُسنِ ظن یہ تھا کہ دُنیا اُس کے لباسِ فاخرہ کی دُشمن ہے۔ اُس سے برہنگی کا لباس بھی چھین لے گی،یہ لالچی اور مطلب پرست دُنیا۔ وہ ہمیشہ اپنی دولت کا ذِکر کرتا۔ اپنے سرمائے کا تذکرہ کرتا۔ اُس کو اندیشہ تھا کہ دُنیا اُسے لُوٹنا چاہتی ہے۔ اُسے لباس سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ وہ بیچارہ مجبور تھا کہ اپنے آپ کو لباسِ فاخرہ میں ملبوس سمجھے۔ وہ رات کو جاگتا رہتا کہ کہیں چور نہ آجائے۔ کسی دُوسری بستی کے لوگ آکر اُس کا سرمایہ نہ لے جائیں۔ بیچارہ بڑی اَذیّت میں تھا۔ اثاثہ نہ رکھنے کے باوجود اثاثے والے لوگوں کے اندیشے لاحق تھے،اُس غریب کو۔ سرمایہ داروں کی بیماری تھی،اُس بیچارے بے سرو ساماں کو— مجبور ی ہی مجبوری تھی، عذاب ہی عذاب تھا۔
چوتھا آدمی — بس چوتھا آدمی اُس بستی کی ہستی کا چوتھا پایہ تھا۔ وہ بیچارہ اپاہج تھا—پاؤں سے محروم،لیکن کمال اعتماد تھا اُس کے پاس کہ وہ اپنے آپ کو تیز رفتار سمجھتا تھا۔ وہ چل نہیں سکتا تھابغیر سہارے کے،لیکن اُسے اِحساس تھا کہ وہ بہت ہی تیز رفتار ہے،کسی ریس کے گھوڑے کی طرح۔ بیچارہ مجبور— مفروضہ ہی مفروضہ، اندازہ ہی اندازہ!!