اگر   انسان کی کوئی آرزو پوری نہ ہو، بلکہ ہر آرزو ٹوٹ چکی ہو، یہاں تک کہ آرزو پیدا کرنے والا دل بھی ٹوٹ چکا ہو تو اُس آدمی کے لیے جینے کا کیا جواز ہے ؟

اگر اِنسان کی زندگی ایک ایسی تاریک رات کی طرح ہو،جس میں دُور دُور تک کسی روشن ستارے کے دکھائی دینے کا امکان نہ ہو، جس میں چاند نام کی کوئی شے نمودار نہ ہو، حتیٰ کہ کسی جگنو کی روشنی بھی نظر نہ آئے، ایسے آدمی کے لیے جوازِ ہستی کیا ہوسکتا ہے ؟

  جب انسان کا راستہ چلتے چلتے اچانک بدل جائے اور اُسے اُس وقت معلوم ہو جب وہ آدھے سے زیادہ راستہ طے کر چکا ہو اور اُسے واپس لوٹنا بھی اُتنا ہی  مشکل نظر آئے جتنا آگے جانا — اُس سے نہ بھاگا جائے اور  نہ ٹھہرا جائے، تو ایسا آدمی زندہ رہنے کا کیا جواز حاصل کر سکتا ہے؟

 جب انسان کے دوست اور اُس کے دشمنوں میں فرق باقی نہ رہے، تو  اُسے جینے اور مرنے کے درمیان کیا فرق معلوم ہو گا؟ اپنے اور بیگانے کے درمیان کوئی امتیاز باقی نہ رہے، بلکہ رشتے ناتے باعث ِ مسرت ہونے کی بجائے باعث ِ اذیّت بنتے جائیں، تو وہ آدمی کس طرح اپنے زندہ رہنے کا جواز تلاش کرے — !!

 جب انسان اِس وسیع کائنات میں اس کی وسعتوں اور آزادیوں کے باوجود اپنے آپ کو پابند و تنگ دامن محسوس کرے،اُسے بھری کائنات میں جائے پناہ نظر نہ آئے، اُسے یوں محسوس ہو کہ آسمان سر پر گرا چاہتا ہے یا زمین پاؤں تلے سے نکلا چاہتی ہے، تو وہ اپنے اِحساس کی کسمپرسی کے عالَم میں اتنا ستم زدہ محسوس کرے گا کہ اُسے نہ جینے کا جواز ملے گا، نہ مرنے کا—!

 آدمی جب سفر کرتے کرتے عمر گزار دے،صدیاں گزر جائیں،عرصے بیت جائیں اور اُسے محسوس ہو کہ چلتے چلتے عمر کٹ جانے کے بعد بھی سفر نہیں کٹا — وقت کٹ جائے اور فاصلہ نہ کٹے، تو زندہ رہنے کا کیا جواز ہو سکتا ہے؟

Pages: 1 2 3 4