میں سوچتا ہوں کہ مَیں کہاں ہوں۔ یوں تو مَیں اپنے آپ میں، اپنے گھر میں ہوں، اپنے حالات اور مسائل میں ہوں، اپنے فکر و ذکر میں ہوں، اپنے غم اور اپنی خوشیوں میں ہوں — لیکن مَیں سوچتا ہوں کہ شاید مَیں کہیں بھی نہیں ہوں۔ مَیں اپنے نام کے پردے میں چھپا ہوا ایک راز ہوں، شاید بہت پرانا — غالباً قدیم۔ مَیں مالک کے اِرادے میں تھا، اُس کے حکم کے تابع ہوں اور اُس کے رُوبرو حاضر رہنے کے انتظار میں ہوں۔ مَیں اپنے پروگراموں میں بہت مصروف ہوں، یہاں تک کہ مَیں خود بھی بھول جاتا ہوں کہ مَیں ایک راز ہوں، لیکن یہ راز اتنا سربستہ بھی نہیں۔ مَیں اپنے اظہار میں بھی رہتا ہوں اور یہ راز کہ مَیں راز بھی ہوں اور اظہار میں بھی ہوں، میری سوچ کا باعث ہے۔ راز کس نے بنایا اور اظہار میں کون آیا؟
یہاں سے سوچ کا آغاز ہوتا ہے۔ میرے تخلیق ہونے میں میرا کوئی دخل نہیں، یہ سب اُس کی منشا اور اُس کے اِرادے اور اُس کے حکم سے ہوا۔ اس طرح میرا ہونا، میرا ہونا نہیں، یا یوں کہہ لیں کہ میرا ہونا، میرا نہ ہونا ہے۔ مَیں خود کسی کا پروگرام ہوں۔ میرا اپنا کیا پروگرام ہو سکتا ہے؟ مَیں توبس چل رہا ہوں، جو ساتھ ہے اُس کی تلاش میں ہوں اور یہ تلاش ایک لامتناہی سفر ہے۔ اگر ہم پیدا ہوتے اور پھر مر جاتے تو کوئی بات نہیں تھی۔ یہاں تو اِس سفر کے بعد ایک اور سفر، ایک اور انتظار موجود ہے۔ گویا کہ مر جانا، مر جانا نہیں۔ اگر مر جانا، مر جانا نہیں، تو پھر جینا کیا جینا ہے؟
پھر بھی جب تک ہم ہیں، ہم ہیں — اور مَیں یہ بھی سوچتا ہوں کہ مَیں،” مَیں“ سے ”ہم“ کب ہو جاتا ہوں۔ کیا مَیں ایک فرد ہوں یا مَیں ایک بے انتہا سلسلۂ اَفراد کا مجموعہ ہوں؟ یہ سوال میرے لیے اہم ہے کہ مَیں یہاں ہوتا ہوں اور مجھے میرے وہاں ہونے کی بھی اطلاعات ملتی ہیں۔ مَیں کبھی صرف ذکر ہوں۔ ذکر کامطلب اظہار، یعنی بیان — اور کبھی مَیں ذاکر ہوں، یعنی بیان کرنے والا — اور کبھی مَیں مذکور ہوں، مَیں بیان ہوتا ہوں۔ گویا ذکر، ذاکر اور مذکور ایک ہی ذات ہے۔ مَیں اُس ذکر کی بات کر رہا ہوں جو ذکرِ اَکبر ہے — میں تو ایک سوچ کی بات کر رہا ہوں کہ جہاں تک میرے تذکرے ہیں، مَیں وہاں تک ہوں اور جہاں مجھے کوئی نہیں جانتا، وہاں مَیں کیسے ہو سکتا ہوں؟ — اور مَیں جانتا ہوں کہ مَیں اپنے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ میرے غم عارضی ہیں،میری خوشیاں عارضی ہیں، میرا گرد و پیش عارضی ہے۔ میری محبّت اور نفرت عارضی ہے۔ میری صحت اور بیماری عارضی ہے، اور یہ سب کچھ جاننے کے باوجود مَیں اپنے آپ کو عارضی نہیں مان سکتا۔
اتنی بڑی خوبصورت کائنات جس کو دیکھ دیکھ کر قادر کی قدرت کے جلوے میسّر آتے ہیں، مجھے عارضی نہیں ہونے دیتی۔ مَیں اپنی پسند کا منظر ہوں، بلکہ اپنی پسند کے مناظر ہوں۔ مَیں ان نظاروں میں رہتا ہوں اور یہ نظارے ہمیشہ سے ہمیشہ تک ہیں۔ اِن نظاروں کو چاہنے والا، عارضی کیسے ہو سکتا ہے۔ مَیں یوں تو ایک فرد ِواحد ہوں لیکن مَیں وہ ذرّہ ہوں جو صحرا میں ہے — وہ قطرہ ہوں جو قلزم میں ہے — وہ اِنسان ہوں جو انسانوں میں ہے۔ بظاہر انسان مر جاتا ہے، لیکن انسان کبھی نہیں مرتا۔ انسان زندہ چلا آ رہا ہے۔ یہ خالق اور مخلوق کی بات ہے۔ انسانوں میں ہونا،یا فرد ہونا — الگ الگ مقامات ہیں۔