ہم خود کو اہم، بلکہ بہت ہی اہم سمجھتے ہیں۔  ہم اپنے خیالات میں خود کو وی آئی پی سمجھتے ہیں۔  یہ ہماری کم ظرفی ہے۔  سیاست میں ہم اپنی جماعت کو محبّ ِ وطن سمجھتے ہیں اور دوسری جماعتوں کو غدّار۔  اپنی رائے پر مغرور ہونے والے انسان صحت ِ رائے سے محروم ہو جاتے ہیں۔  اُن پر اِصلاح کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔  وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اِنسان ہیں — خطا و نسیان،  ظلم و جہالت کے  پتلے!!

اِختلاف کا احترام کرنا چاہیے۔ مخالف کی اِصلاح محبّت سے کی جائے، مروّت سے کی جائے۔ مخالفت شعور میں نکھار پیدا کرتی ہے —  بادِ مخالف بلند پروازی کا زِینہ ہے۔  اِختلاف ہی بے قراری پیدا کرتا ہے۔ اِختلاف کے دَم سے زندگی جمود سے نکل کر تحریک بنتی ہے۔  حرکت زندگی ہے،  جمود موت۔ اختلاف انقلاب و ارتقاء کا ذریعہ ہے۔

عظیم اِنسان اِختلاف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔  وہ جانتے ہیں کہ زندگی کا وسیع تر اِختلاف زندگی کا حُسن ہے اور خالق نے زندگی کو اِختلاف کے زیور سے مزیّن فرما کر اُسے حُسن بخشا ہے۔  ایک گھر میں پیدا ہونے والے اور ایک چھت کے نیچے پرورش پانے والے ایک اندازِ فکر نہیں رکھتے۔  ایک دسترخوان پر پلنے والے ایک جیسا ذائقہ نہیں رکھ سکتے۔  دُنیا کی طرف رجوع کرنے والے اور آخرت پر نگاہ رکھنے والے،  الگ الگ رہیں گے۔  بھلا سونے والے اور جاگنے والے کیسے برابر ہو سکتے ہیں۔  ساری دُنیا فوج نہیں بن سکتی کہ ایک ہی وردی میں ملبوس ہو۔ دُنیا میں لباس الگ الگ رہے گا، مزاج الگ الگ ہو گا،  رنگ الگ الگ ہوگا،  عقیدے مختلف رہیں گے،  دریا ہمیشہ رواں رہیں گے اور کنارے ساکن ہوں گے۔ پہاڑ بلند رہیں گے اور میدان کشادہ — کنجوس کا دِل تنگ رہے گا اور سخی کی پیشانی کشادہ۔ ہمارے عقائد،  ہمارے تخیّلات اور ہمارے رجحانات،  ہمارے ملبوسات کی طرح الگ الگ رہیں گے۔  ان ملبوسات کے اندر ہمارا وجود،  حقیقی وجود —  وجودِ واحد،  بے رنگ ہے،  اس لیے ہم رنگ ہے۔  انسان، انسان سے غیر نہیں لیکن فکر اور عقیدہ الگ الگ — !!

ہر آنکھ میں آنسو یکساں ہیں، ہر دِل کی دھڑکن ایک ہے،  ہر ماں کی مامتا ایک ہے۔  ہر مسافر ایک ہی سفر پر ہے اور تمام مسافر ہم سفر ہیں۔  ہر اثاثہ راہ میں لُٹے گا۔  ہر آرزو ناتمام ہے۔  ہر آغاز ایک سے انجام  پرختم ہو گا۔  رنگا رنگ جلوے،  ہمہ رنگ نظارے،  حُسنِ اِختلاف کے دَم سے ہیں،  اور یہ اِختلاف اُس وقت تک ختم نہیں ہوتاجب تک بے رنگ کا جلوہ نظر نہ آئے۔  بے رنگ روشنی کے سب رنگ ہیں۔  سات رنگوں کے جلوے دراصل سفید رنگ کے دلفریب رُوپ ہیں۔ کثرت اُس وقت تک سمجھ میں نہیں آتی جب تک وَحدت آشنائی نہ ہو،  اور وَحدت اُس وقت تک سمجھ میں نہیں آتی،  جب تک کثرت شناسی نہ ہو۔  اِختلاف حجاب ہے اور یہ حجاب اُس وقت اُٹھتا ہے جب اِختلافات پیدا فرمانے والے کا فضل شاملِ حال ہو، نہیں تو نہیں — !!

Pages: 1 2 3 4