پہچان ہو جائے تو حاصل و محرومی اور کامیابی و ناکامی کا فرق مٹ جاتا ہے۔ کامیابیوں کی منزلیں طے کرنے والا ناکامی کے عبرت کدے میں دم توڑ سکتا ہے۔ ناکامی کی اُفتاد سے نکلتا ہوا اِنسان کامیابی کی چوٹی تک پہنچ سکتا ہے۔
غریب الوطنی میں مرنے والا سکندر، عظیم فاتح بھی تھا۔ ہکلانے والی زبان، اللہ سے ہمکلام بھی ہو سکتی ہے۔ غریبی میں بادشاہی بھی ہو سکتی ہے اور بادشاہی میں فقیری بھی ممکن ہے، ایسا ہوتا رہا ہے۔
بغاوت کامیاب ہو جائے تو اِنقلاب کہلاتی ہے اور اِنقلاب ناکام ہو جائے تو بغاوت کہلاتا ہے۔ بلند مقاصد کا سفر بھی تضاد ات سے مُبّرا نہیں ہوتا۔ ایک مقصد کی کامیابی دوسرے مقاصد کی ناکامی بھی ہے۔ ایک آرزو کو پورا کرنے کے لیے کتنی آرزوؤں کا خون کرنا پڑتا ہے۔ اگر معیار بدل جائے، تو حاصل اور محرومی میں فرق نہیں رہتا۔
فرعون کامیاب بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ اُس کے پاس دولت تھی، لوگوں میں عزت تھی، صاحبِ اَمر بھی تھا، اُس کا حکم نافذ بھی تھا، اور موسیٰ ؑ گھر سے بے گھر، صحرا بہ صحرا، جُو بہ جُو پھِرنے والے اللہ کے رسول تھے۔ کون کامیاب تھا اور کون ناکام، اِس کا فیصلہ ہو چکا ہے۔
یوسف ؑکے لیے پیغمبری کا سفر کنویں میں گرنے سے شروع ہوا۔ کتنی بلندی اور کتنی ابتلا! تضاد ہے، لیکن تضاد نہیں ہے۔