ہماری زندگی میں تضادات کا ہونا کوئی غیر فطری بات نہیں۔ تضادات کائنات میں ہیں، بلکہ فاطرِ حقیقی کی صفاتِ عالیہ پر غور کیا جائے تو ہمیں ہمارے تضادات کچھ اجنبی نہیں محسوس ہوں گے۔
زندگی عطا فرمانے والا کچھ عرصہ کے بعد موت عطا فرماتا ہے۔ زندگی واپس لے لیتا ہے۔ وہ خود ہی کسی کو ملک عطا فرماتا ہے اور خود اُسے معزول کر دیتا ہے۔ وہ عزت دیتا ہے، وہی ذِلّت دیتا ہے۔ حساب کرنے پر آئے تو رائی کے دانے تک کا حساب کر لے۔ بخشش کرنے پر آئے تو سَیّاٰت کو حسنات میں بدل دے۔ محنتوں کو فاقے سے گزار دے اور چاہے تو کم محنت کرنے والوں کو بے حساب عطا فرما دے۔ وہ کبھی خزانے عطا فرماتا ہے اور کبھی وہ قرضِ حسنہ بھی مانگتا ہے۔ اُس کے کام عجب ہیں۔
وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اُس کے قبضہٴ قدرت سے کسی شے کے باہر ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اِس کے با وجود آدھی سے زیادہ دُنیا اُس کو نہیں مانتی۔ اُس کا دعویٰ ہے کہ ہر وجود کا رزق اُس کے ذمہ ہے۔ لیکن ہمارا مشاہدہ اُس مقام تک نہیں پہنچ سکتا، جہاں اِن تضادات میں کوئی تضاد نہیں رہتا۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اللہ نے اپنے مخالف، اپنے دشمن کو مارا نہیں۔ وہ قادر ہے۔ اُس نے شیطان کو زندہ رکھا ہے۔ یہی سب سے بڑا تضاد ہے اور یہی اِس کا حل۔
ہمیں تضادات سے جنگ نہیں کرنا۔ تضادات کو احسن طریقے سے حل کرنا ہے۔ ہمارا نظریہ اپنی جگہ پر درست، لیکن دوسروں کے نظریات اُن کے لیے اُتنے ہی مقدّس و بامعنی ہیں۔ ہمیں اپنا نقطۂ نظر واضح کرنے کا حق تو ہے، دوسروں کو قتل کرنے کا حق نہیں۔