اللہ نے اپنی زمین میں اپنے نہ ماننے والوں کو جس طرح برداشت فرمایا ہو ا ہے، اِسی طرح ہم بھی دوسروں کواُن کے عقائد کے اختلاف کے باوجود برداشت کیوں نہیں کرتے ؟ زندگی میں مختلف نظریات کا ہونا، زندگی کا حُسن ہے۔ کسی اِنسان سے اِس لیے نفرت نہیں کرنا چاہیے کہ اُس کا لباس ہمارے لباس سے مختلف ہے۔
تضادات کو برداشت کرنے کے لیے عظیم دِل چاہیے۔ کمزور عقیدہ اُلجھتا ہے، لڑتا ہے، جھگڑتا ہے، لیکن طاقتور اور صحت مند عقائد دوسرے عقیدوں کو اپنے ساتھ اِس طرح مِلاتے ہیں جیسے سمندر دریاؤں کو اپنے اندر سمیٹتاہے۔
ایک انداز کی صداقت دوسرے انداز کی صداقت کو غلطسمجھتی ہے، باطل سمجھتی ہے، حالانکہ سب سے بڑی صداقت یہ ہے کہ اِس کائنات میں کچھ بھی باطل نہیں۔
ہمیں تحمل سے دوسرے کے نقطۂ نظر کو سُننا چاہیے، اُس کی خامی کی اصلاح کرنا چاہیے، اُس سے محبّت کرنا چاہیے۔ کوئی شخص بیمار ہو جائے تو اُس سے نفرت نہیں کرنا چاہیے۔ اِسی طرح کسی کا عقیدہ بیمار ہو جائے تو اُس کے لیے زیادہ توجہ اور رحم کی ضرورت ہے۔
عقائدو نظریات پر اِتنی کتابیں لکھی جا چکی ہیں کہ دُنیا کا کسی ایک عقیدہ پر متفق ہونا مشکل ہے۔ ایک گروہ نے ایک کتاب پڑھ لی ہے، دوسرے نے دوسری۔ یہی اختلاف کی وجہ ہے۔ کتابی علم کے علاوہ دیکھا جائے تو ہر اِنسان کے دِل کی دھڑکن ایک جیسی ہے۔ سب کی آنکھو ں میں ایک جیسے آنسو ہیں اور ہر اِنسان نے اِس دُنیا میں چند معدود ایّام گذارنے ہیں۔