تقدیر کو اگر وہ فطرت کہہ دیا جائے جس میں اِنسان پیدا ہوتا ہے تو تقدیر کا بدل جانا ایک ناممکن سی بات ہے۔  پہاڑ کا اپنی جگہ سے ٹل جانا ممکن ہے لیکن فطرت کا بدل جانا ناممکن ہے۔  شیر بھوک سے مر جائے گا لیکن گھاس نہیں کھائے گاکیونکہ شیر کی فطرت میں ایسے نہیں۔  شیر کا مقدّر گوشت ہے۔  شیر کی تقدیر اُس کے مزاج کی شکل میں اُس کے ساتھ ہے۔

شاہین کو شاید معلوم ہی نہ ہو کہ فطرت نے اُس کی فطرت میں بلند نگاہی اور بلند پروازی اِس طرح شامل کر دی ہے کہ اُسے پرندوں کی دُنیا کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ اِس کے برعکس فطرت نے کرگس کو بلند پروازی تو دی ہےلیکن پست نگاہی کا یہ عالم ہے کہ گِدھ کی خوراک ہی مُردار ہے۔  پرجا گِدھ ہو یا راجہ گِدھ،  مُردار کے بغیرنہیں رہ سکتا۔  مُردارخوری اُس کی تقدیر ہے، اُس کا مقدّر ہے۔ گِدھ کی آنکھ مُردار اجسام کے علاوہ کچھ اور دیکھنے سے قاصر ہے۔

کائنات کی ہر شے کو اپنے اپنے مقدّر کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔  کسی شے کو اپنے مدار اور اپنے حصار سے باہر نکلنا دشوار ہے۔  اجسام اور افراد اپنے مزاج سے نکل کر اپنے آپ کو قائم نہیں رکھ سکتے۔

ہر ذی جان اور بے جان شے کا اپنی تقدیر میں پابند رہنے کا عمل ہی اِس کائنات کی استقامت اور اِس کے حُسن کا راز ہے۔

اگر ہوائیں چلنے سے انکار کر دیں تو نظام ِ ہستی ختم ہو جائے۔ سورج تپش سے باہر نکل جائےتو کائنات درہم برہم ہو جائے۔  ہر شے اپنے مقدّر میں رہن رکھی جا چکی ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5 6