اِنسان کو اکثر یہ بات ناگوار لگتی ہے کہ اُس کے لیے ایک تقدیر بھی مقرر کر دی گئی ہے۔ پابندی اور جبر اِنسان کو کبھی پسند نہیں رہا۔ اسے آزادی اور آزاد خیالی سے محبّت ہے۔ اگر اِنسان سے یہ کہہ دیا جائے کہ پستیوں میں رہ کر بلندیوں کی تمنّا کرنا ہی اس کا مقدّر ہے، تو شاید یہ بات اتنی واضح نہ ہو۔ پابندیوں میں آزادیوں کی تمنّا اِنسان کی سرشت میں تو ہے لیکن وہ آزادی کی خواہش کو مقدّر کی مجبوری ماننے پر بھی تیار نہیں۔
بہشت میں اِنسان کو ہر طرح سے آزادی تھی، خوشی تھی، محنت کے بغیر خوراک میسّر تھی۔ کیا نہیں تھا ؟ صرف ایک پابندی تھی کہ اُس درخت کے قریب نہیں جانا۔ اِنسان نے اپنی بہشت قربان کر کے یہ پابندی آخر توڑ ہی دی۔ اِنسان آزادی چاہتا ہے، مقدّرسے بھی آزادی۔
کوئی شخص پیدا نہیں ہوتا جب تک اُس کے ہمراہ اُس کا مقدّر نہ پیدا ہو۔ اچھا یا بُرا، مقدّر ضرور ہوتاہے۔
اِس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اِنسان کے ماں باپ ہی اُس کا مقدّر ہیں۔ اب پیدا ہونے والا بچہ والدین کی صفات لے کر پیدا ہوا۔ اُسے وہ ماحول ملا، وہ عقائد ملے، وہ مزاج ملا، وہ محبّت، وہ شفقت، جو ملا سو ملا۔ نفرت ملی تو بھی مقدّر ملا۔ بہر حال پیدا ہونے والے کے ساتھ تقدیر موجود ہے۔ اِس مقدّر سے مفر نہیں۔ اِنسان اپنے والدین کی تاثیر سے بچ نہیں سکتا۔ والدین کی فطرت ہر طرح سے اولاد پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اثر بڑھتے بڑھتے تقدیر بن جاتا ہے۔
اِنسان کا اپنا چہرہ اُس کی تقدیر ہے۔ عمل اور کردار کے اظہار سے پہلے اِنسان کا چہرہ اُس کے لیے پسندیدگی اور ناپسندیدگی کے جذبات پیدا کر چکا ہوتا ہے۔