اِنسان کی تقدیر اُس کے مزاج کی شکل میں اُس کے اندر موجود رہتی ہے۔  یہ مزاج خواہش پیدا کرتا ہے۔  خواہش عمل پیدا کرتی ہے اور عمل ایک نتیجہ پیدا کرتا ہے۔  ہم نتیجہ کو مقدّر کہہ لیں یا اُس مزاج کو جس سے یہ نتیجہ نکلا،  فرق نہیں پڑتا۔  مقدّر بہرحال اِنسان کے ساتھ ہے۔

تقدیر کے مقابلے میں اِنسان نے تدبیر کا تصوّر رکھا ہُوا ہے۔ تدبیر یا حُسنِ تدبیر ہی دراصل تقدیر کی مہربانی ہے۔  ہماری تدبیریں تقدیر کی معاون ہیں،  تقدیر کے مقابل نہیں آ سکتیں۔  جب بُرے دِن آتے ہیں تو اِنسان کی تدبیریں غلط ہو جاتی ہیں۔  ہمیں غلط یا صحیح مشورہ دینے والا دوست تقدیر کا قاصد ہوتاہے۔

کیا تقدیر بدل سکتی ہے؟ اگر تقدیر بدل جائے تو بدلنے سے پہلے بھی تقدیر کا ہونا بےمعنی سا ہے۔  تقدیر بدل جائے تو حاصل بھی ہے تقدیر! دراصل تقدیر نہیں بدلتی۔  جو بدل جائے، وہ تقدیر نہیں۔

جب ہم کسی تکلیف میں ہوتے ہیں تو ہم سمجھ نہیں سکتے کہ تقدیر اب کیا ہے۔ اگر مقدّر اچھا ہو تو کہیں نہ کہیں سے کوئی نگاہ،  مردِ مومن کی نگاہ بن کر تکلیف دُور کر جاتی ہے۔
نگاہِ مردِ مومن ہی تقدیر ہے۔ سب کے لیے نہیں ہے، جس کے لیے ہے، اُس کا مقدّر! تقدیر پر بحث کرنا مناسب نہیں ہے۔  جبر و قدر کے مسائل بحث سے حل نہیں ہوتے۔  جو کچھ ہو گیا،  جو گزر گیا،  اُسے تقدیر کہہ لیا جائے اور جو ہونا ہے،  آنے والا ہے،  اُسے اِمکان کہہ لیا جائے تو بات سمجھ میں آ سکتی ہے۔ آنے والا بدل سکتا ہے کیونکہ ابھی آیا نہیں۔  گزرا  ہُوا، بدل نہیں سکتا کیونکہ وقت کا پہیہ واپس نہیں ہو سکتا۔  یہی تقدیر ہے کہ جو گیا، وہ واپس نہیں آیا۔  اگر واپس آیا تو وہ،  وہ نہیں تھا،  سب کچھ بدل گیا تھا — !

جب اِنسان کا شعور بیدار ہوتا ہے،  وہ اِس کائنات کی ہمہ رنگ نیرنگیوں کا جائزہ لیتا ہے۔  وہ اپنے لیے کچھ پسند کرتا ہے،  کچھ انتخاب کرتا ہے۔  بس یہی لمحہٴ انتخاب،  لمحہٴ تقدیر ہے۔  تقدیر ہمیں ہماری عاقبت کے سامنے لے جاتی ہے۔  یہ خوش نصیبی بھی ہے اور بد نصیبی بھی ہو سکتی ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5 6