اِنسان اپنے آپ کو کہاں تک محفوظ کرے گا۔  چراغ کو آندھی اور طوفان سے تو بچایا جا سکتا ہے لیکن چراغ کے اندر ہی سے تیل ختم ہو جاتا ہے۔ اِس چراغ کو کوئی نہیں بجھاتا۔ یہ خود ہی بجھتا ہے۔ زندگی کی دیوار اپنے بوجھ سے ہی گر جاتی ہے۔  یہی اِس کا مقدّر ہے۔

زندگی کو باہر سے خطرہ ہو تو اِس کی حفاظت کی جاسکتی ہے۔  اگر خطرہ اندر ہی ہو تو کیا کِیا جائے۔  سانس خود ہی رُک جاتی ہے۔  دل خود ہی بند ہو جاتاہے۔  بس یہی مقدّر ہے۔  اِسے بدلنے کی خواہش اور کوشش تو ضرور ہوتی ہے لیکن اِسے تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

جو ٹل جائے،  وہ مقدّر نہیں،  اندیشہ ہے۔  جو بدل جائے،  وہ صرف اِمکان ہے،  مقدّر نہیں۔  جو نہ بدلے،  وہ مقدّر ہے۔  جو اٹل ہو،  وہی اَمرِ الٰہی ہے،  وہی نصیب ہے — ہمارا نصیب،  جو ہمارے عمل کے تعاون کا بھی محتاج نہیں،  اُس بارش کی طرح ہے  جو آسمانوں سے نازل ہوتی ہے اور اُس زلزلے کی طرح ہے جو زمین کے اندر سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ اِس میں کسی کا دخل نہیں۔  یہ فطرت کے فیصلے ہیں،  اٹل اور نہ بدلنے والے!!

Pages: 1 2 3 4 5 6