ایک دوست نے دوسرے سے پوچھا:”بھئی آپ نے زندگی میں پہلا جھوٹ کب بولا؟ “ دوست نے جواب دیا:”جس دن میں نے یہ اعلان کیا کہ میں ہمیشہ سچ بولتا ہوں۔ “ سچ اور جھوٹ ہماری زندگی میں کچھ اس طرح شِیروشکر ہو گئے ہیں کہ اِن کو جدا کرنا مشکل سا ہے۔ کاذب ماحول میں صادق کی زندگی ایک کربلا سے کم نہیں۔
ایک شَیخ نے اپنے مرید کو خرقۂ خلافت عطا کیا اور اسے کسی بستی میں تبلیغ کے لیے بھیج دیا۔ کچھ عرصہ بعد شیخ کو اطلاع ملی کہ اُن کا مرید بڑا کامیاب ہے۔ سب لوگ اُس سے خوش ہیں۔ شیخ نے مرید کو طلب کیا اور کہا کہ خرقۂ خلافت واپس کرے۔ مرید نے شیخ سے ناراضی کا سبب دریافت کیا۔ شیخ نے کہا: ”سنا ہے کہ سب لوگ تجھ سے خوش ہیں۔ “مرید نے کہا:”آپ کی مہربانی ہے۔ “شیخ نے غصہ سے کہا کہ سب لوگوں کا خوش ہونا اِس بات کا ثبوت ہے کہ تم نے سچ بولنا چھوڑ دیا ہے۔
سچ اور جھوٹ کی شناخت ہر انسان کو یکساں میسر نہیں ہوتی۔ ایسا ممکن ہے کہ دو انسان اپنی اپنی صداقت کے زعم میں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوں۔ ایک انسان کا اندازِ فکر دوسرے انسان کے اندازِ فکر کے برابر نہیں ہوتا۔ شعور اور ترجیحات کا فرق ایک ہی صداقت کے بیان میں فرق پیدا کر دیتا ہے۔ شبنم کے قطرے صبح کی مسکراہٹ بھی ہیں اور رات کے آنسو بھی۔ اندازِ نظر بدل جائے تو نظارہ بدل جاتا ہے۔
ہم اپنے بچوں کو سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ہم انھیں کہانیاں سناتے ہیں۔ پریوں کی کہانیاں، جنّات کی، شہزادوں کی، بادشاہوں کی کہانیاں، اور یہ سب کہانیاں جھوٹ ہیں۔ بچے صداقت کا مفہوم کیا سمجھیں گے؟اسی طرح ایک بچہ نابالغ ہونے کے ناطے اوربھی کئی صداقتیں سمجھنے سے قاصر ہے۔ ہماراافسانہ، ہماراڈرامہ، سفرنامہ، انشائیہ، غنائیہ، تخلیقی صداقت تو ضرور ہے لیکن عین صداقت، نہ ممکن ہے، نہ مدعا۔ اگر ادبی تخلیقات کو سچ کہا جائے، تو جھوٹ کیاہے؟اگر جھوٹ ہے، تو سچ کیا ہے؟حضرت مولانا رومؒ کی مثنوی فارسی زبان میں قرآن کہلاتی ہے لیکن مثنوی کی اکثر کہانیاں عربی کے قرآن کے مفہوم کے مطابق سچ نہیں ہیں، لیکن ان سے حقیقت فہمی آسان ہوتی ہے۔ بیباک بیانی نے مثنوی کے اندر رہ کر صداقت بن جانا ہے۔ اگر کوئی اور مصنف ایسی ویسی کہانی لکھ دے تو نہ صرف یہ کہ وہ صداقت نہ رہے گی بلکہ فحاشی بھی بن سکتی ہے۔
دراصل صداقت، بیان کرنے والے کے ساتھ اپنا رنگ بدلتی رہتی ہے۔ کوئی جھوٹاآدمی سچ بولنے لگے تو سمجھ لینا چاہئے کہ سچ خطرے میں ہے۔ سچ وہی ہے، جو سچے کی زبان سے نکلے۔