اسی طرح منافقین اگر مسجد بنائیں اور اُن کی نیّت یہ ہو کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جائے تو یہ حکم ہے کہ ایسی مسجد کو گرا دیا جائے۔ مسجد سچ ہے لیکن بدنیّت انسان بنائے تو جھوٹ ہے۔

ہر انسان سچ اور جھوٹ کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ ایک عدالت کا سچا فیصلہ دوسری عدالت میں ہی جھوٹ ہو جاتا ہے اور دونوں عدالتیں سچی ہیں۔

 سچ اور جھوٹ کی پہچان اس لیے ناممکن ہے کہ سچ اور جھوٹ کا تعلق عقیدے سے ہے، تسلیم سے ہے۔ اس میں تحقیق کا پہلو کم ہے۔

ہم سچائی کی تلاش میں نکلیں تو ہمیں سچائی نہیں ملے گی،  سچائی نہیں مل سکتی۔ زیادہ سے زیادہ ہم صرف سچے انسان تک پہنچ سکتے ہیں۔ ہم جس انسان کو سچا مان لیں، اُس کا فرمایا ہوا ہر لفظ سچ ہے۔  سچے کا فرمان سچ ہے۔ سچ کو ماننے کے لیے ہمیں خود سچائی کا راستہ اختیار کرنا ہے۔  صادق کو ماننے والا صدیق ہی تو ہو گا۔ صادق کی ہر بات صداقت ہے۔

اسی صداقت کے حوالے سے ہی صداقت ِ کائنات یا صداقت ِ ہستی کی پہچان ممکن ہے۔  اگر صادق کا حوالہ نہ ہو تو سچ اور جھوٹ کے الفاظ اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔ ہم نے سچے دل سے صادق کی ہر بات کو سچ مان کر زندگی کاشعور حاصل کرنا ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5