سچے انسان کا جھوٹ مصلحت پر مبنی ہو سکتا ہے،  لیکن جھوٹے انسان کا سچ منافقت کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ منافق کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ مومنوں کے سامنے کہتا ہے کہ وہ ایمان لایا اور جب  خلوت میں اپنے شیاطین کے پاس ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ اس نے مومنوں کو بیوقوف بنانے کے لیے ایمان کا اعلان کیا ہے۔ منافق اُس انسان کو کہتے ہیں جو مومنوں اور کافروں میں بیک وقت مقبول ہونا چاہے۔

بعض اوقات سچ کا بیان بے ربط ہونے کی وجہ سے بے معنی ہو جاتا ہے اوراس طرح اپنا مفہوم کھو دیتا ہے۔ مثلاًاگر میں یہ کہوں کہ”سورج مشرق سے نکلتا ہے۔ زمین گول ہے۔  پرندے ہوا میں اڑتے ہیں۔ آج ہفتہ ہے۔ میں خوشاب کا رہنے والا ہوں۔  نوائے وقت اچھا اخبار ہے۔ “یہ بیان صداقت تو ہے لیکن بے ربط ہے۔ اس لیے لغو ہے۔  صداقت کے اظہار کا وقت ہوتا ہے۔ ہر وقت کی ایک صداقت ہے۔ غریب اور امیر کی صداقت میں فرق ہے۔   کم علم انسان اور علم والے انسان کی صداقت میں فرق ہے۔ بے یقین انسان کی صداقت میں بھی فرق ہے۔

ہم سچ کو اپنی سچائی کے معیار کے مطابق جانتے ہیں۔ قاتل اور مقتول کا رب تو ایک ہے لیکن دونوں فریق بیک وقت اِس صداقت کو کیسے مان لیں۔ بیمار اور صحت مند انسان ایک ہی صداقت کو ایک جیسا نہیں مان سکتے۔ غرض یہ کہ ہر انسان اپنے معیارِ فکر سے سچ اور جھوٹ کا اندازہ کرتا ہے۔ محبّت کرنے والوں کی صداقت اور ہے، محرومِ محبّت کا سچ اور ہے۔ مثال کے طور پر لفظ”انسان“ کو لیں۔ ہر آدمی انسان کے بارے میں الگ شعور رکھتا ہے۔ انسان کی تعریف میں ہمیں طرح طرح کے بیان ملیں گے۔ مثلاً:

 ”انسان اشرف المخلوقات ہے، انسان ظلوم و جہول ہے، انسان ہی احسنِ تقویم کی شرح ہے، انسان اسفل السافلین بھی تو ہے، فطرت انسان پر فخر کرتی ہے، فطرت انسان کے اعمال پر شرمندہ ہے،  انسان روشنی کا سفیر ہے،  انسان اندھیرے کا مسافر ہے،  انسان کو سوچنے والا بنایا گیا ہے،  اس کے سینے میں دھڑکنے والا دل ہے،  انسان کے پاس سوچنے کا وقت ہی نہیں،  اس کے سینے میں برف کی سِل ہے،  انسان کو انسان سے اتنی محبّت ہے کہ انسان انسان پر مرتا ہے،  انسان کو انسان سے اتنی نفرت ہے کہ انسان انسان کو مارتا ہے، انسان رحمان کا مظہر ہے،  انسان شیطان کا پیروکا ر ہے،  انسان فطرت کے ہر راز سے باخبر ہے،  انسان اپنے آپ سے بھی بے خبر ہے،  انسان کی خاطر اللہ نے شیطان کو دُور کر دیا،  شیطان کی خاطر انسان اللہ سے دُور ہو گیا،  انسان کو اس کے عمل اور ارادے میں آزاد رہنے دیا گیا،  انسان کے عمل پر جبر کے پہرے بٹھا دیے گئے،  انسان کو اللہ نے آزادی دی، بادشاہی دی، عزت دی،  انسان کو کس نے مجبوری دی، غلامی دی، ذِلّت دی؟،  انسان حیا کا پیکر ہے،  انسان لطافتوں کا مرقع ہے،  انسان جنسیات کے تابع ہے،  انسان معاشیات سے مجبور ہے،  انسان سماج بناتا ہے،  انسان سماج شکن ہے،  انسان صلح کا خوگر ہے،  انسان جنگ و جدال کا شائق ہے،  انسان کو علم ملا، زندگی ملی،  انسان کو جہالت ملی، موت ملی،  انسان دنیا میں بہت کچھ کھوتا ہے، بہت کچھ پاتا ہے،  انسان نہ کچھ کھوتا ہے نہ کچھ پاتا ہے،وہ صرف آتا ہے اور جاتا ہے۔ “

غرض یہ کہ ایک لفظ”انسان“ کی صداقت ہی اتنی وسیع المعنی ہے کہ اس کے کوئی معنی نہیں۔  انسان سب کچھ ہے، انسان کچھ بھی نہیں۔ انسان کے بارے میں کیا بات سچ ہے، کچھ فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ انسان اپنے عقیدے کو سچ اور دوسروں کے عقائدکو جھوٹ کہتا ہے۔ ہم اپنے وطن کی خاطر مر جائیں تو شہید۔ دشمن اپنے وطن کی خاطر مر مٹے تو واصل بہ جہنم۔  ہم یہ نہیں سوچ سکتے کہ دوسروں کا عقیدہ ان کے لیے اتنا ہی واجب الاحترام ہے جتنا ہمارےلیے ہمارا عقیدہ۔  پیداکرنے والے نے ہی خیراور شر کو تخلیق فرمایا۔  انسانوں کی سرشت میں دنیا کی محبّت اور آخرت کی طلب رکھ دی گئی۔  فطرت نے کسی کے ہاتھ میں کاسۂ گدائی دے دیا اور کسی کے سر پر تاجِ شاہی پہنا دیا۔ ایک کی خوشی، دوسرے کا غم ہے۔ سچ اور جھوٹ کی پہچان یکساں کیسے ہو سکتی ہے؟

Pages: 1 2 3 4 5