جن لوگوں کو اِس دنیا میں رہ کر گیان، نروان یا عرفان حاصل ہوا، اُن لوگوں کے حالات یا اُن پر گزرنے والے واقعات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر ایک پر الگ الگ کیفیات مرتب ہوئیں۔ لوگ الگ الگ تجربات سے گزرے اور نتیجہ تقریباً یکساں تھا کہ اُس کی ذات کی پہچان انسان کے بس سے باہر ہے۔ جن لوگوں کو اُس کی معرفت ہوئی، انہوں نے یہی اعلان فرمایا کہ حق ِمعرفت ادا کرنا اِنسان کے بس کی بات نہیں۔ ایک کا طریقہ دوسرے کے طریقے سے مختلف ہونے کے باوجود ایک کی دریافت دوسرے کی دریافت کے برابر ہونا ،ایک بڑی عجب بات ہے۔
کہتے ہیں کہ ایک بزرگ دریا کے اندر پانی میں رہ کر کئی سال تک تلاوت ِ کلامِ پاک کرتے رہے۔ آخر ایک دن سرشار ہو کر باہر نکلے اور اپنے چاہنے والوں کے پاس جا کر اعلان کیا : ”اگر مجھے معلوم ہوتا ،کہ اللہ کی پہچان اتنی آسان بات ہے تو ہم پانی میں اتنے سال کیوں کھڑے رہتے“۔ ایک بےباک طالب نے بڑھ کر کہا: ’’یا شیخ—! آپ کی ہر بات صحیح، آپ کی ہر بات برحق، اب آپ کم اَز کم ہمیں تو وہ راز بتا دیں تاکہ ہم پانی میں کھڑے رہنے کی صعوبت سے بچ سکیں“۔ وہ شیخ مسکرائے اور کہا: ’’میں اتنے سال کی عبادت کا حاصل تمہیں ایک سیکنڈ میں کیسے دے دوں؟“ اب نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ جو کچھ حاصل ہوا، وہ ریاضت کے نتیجے سے ہوا، اور اگر ریاضت کے نتیجے سے ہوا تو یہ کیوں کہا گیا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا ، کہ اللہ یہ ہے تو اتنے سال ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بس یہی راز ہے۔ جو ملتا ہے، وہ بہت آسان بات ہے، مگر یہ آسان بات بڑی مشکلات سے حاصل ہوتی ہے۔
عبادتیں اور اُن کا تقدّس،اُن کی اہمیت اپنی جگہ لیکن کسی انسان کا دل راضی کرنا— یہ سب اہمیتو ں سے زیادہ اہم ہے۔ ایک انسان جس کے پاس کچھ نہیں، اُس کا دامنِ عمل خالی ہے، بس صرف اُس کے پاس ماں کی دُعا ہے۔ نتیجہ حق شناسی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ مالک کے کام ہیں۔ کسی کو مال و دولت میں عرفان نصیب ہوا، کسی کو غریبی برداشت کرنے کی وجہ سے اپنے قریب کر لیا گیا۔ کچھ لوگ صرف سفر میں رہے اور جھوٹے لوگوں کی عاقبت دیکھتے رہے۔ اُن کھنڈرات کو دیکھنے سے جو ہیبت طاری ہوئی، اُس میں حق آگہی حاصل ہو گئی۔ کچھ لوگ کوئی نیکی نہ کر سکے لیکن جہادِ اسلام میں اُن کو شہادت نصیب ہو گئی۔ اب شہید کو جو مقام میسّر ہوا، وہ موت سے آزادی ہے، اللہ کا قرب ہے، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے، اور اللہ کا حکم ہے کہ ان کو مردہ نہ کہو، وہ تو زندہ ہیں۔
کچھ لوگ مسلسل اِستغراق میں رہے اور استغراق میں انہیں حق شناسی عطا کر دی گئی۔ کسی کو تنہائیوں میں گوہرِ مراد ملا،کسی کو محفلوں میں راز ملا۔ کسی نے قوّالی میں پایا۔کسی نے محفلِ ذکر میں حاصل کیا، کسی کو دُعا نصیب ہوئی، کوئی حسرتوں میں سرشار کر دیا گیا،کسی کو مشاہدے میں، کسی کو مجاہدے میں — غرضیکہ اُس کے جلوے ہمہ رنگ ہیں اور جلووں کے حصول کا سلسلہ بھی اسی طرح ہمہ رنگ ہے۔ انسان خلوص کے ساتھ دین کے فرائض کا خیال رکھتے ہوئے اگر اُس کی راہ پر گامزن ہو جائے تو کسی نہ کسی شکل میں، کسی نہ کسی صورت میں اُس بے صورت کا جلوہ مل جائے گا۔
حضرت علیؑ کا قول ہے کہ اگر چمگادڑ کی زندگی پر ہی غور کیا جائے تو عرفانِ حقیقت ممکن ہی نہیں، آسان بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے مرتبے، اور ہمارا غرور، اور لالچ، اور کینہ، اور بغض، اور غصہ، اور نفس پرستی، اور نمائش اور آلائش ہی ہمارے راستے کی رکاوٹیں ہیں۔