حکمرانوں کو حکومت امانت کے طور پر عطا کی گئی۔ یہ کسی کی ذاتی طاقت کے لیے نہیں، یہ غریبوں کی سہولت کے لیے ہے۔ غریبوں کے حقوق اَدا کریں اور اُن  حقوق کی نگہداشت کریں۔ حاکم اَمین ہوتا ہے اور محکوم اطاعت شعار —  دونوں خدا کے قریب ہیں بشرطیکہ دونوں خدا کے قریب ہوں۔ اگر غریبی سکون میں نہیں اور غریبی کے باوجود غریب پر یقین کی دولت نازل نہیں ہوتی  تو وہ غریبی عذاب ہے۔ دنیاوی مال بھی نہ ملا اور سکونِ قلب کی دولت بھی نہ ملی۔ خدا پر بھروسہ بھی کیا،اپنےمستقبل سےبھی مایوسی ہوئی۔ باغی غریب دوہرے عذاب میں ہوتا ہے۔

اِسی طرح وہ اَمیر جو دولت کو باعث ِافتخار سمجھتا ہے، اُس فرعون کی طرح ہے جس کو لعین کہا گیا۔ لوگوں کا  ربّ بن بیٹھنا  فرعونیت ہے اور وہ لوگ جو لوگوں کے خیر خواہ بن جاتے ہیں اور اُن کو دین سے دُور لے  جا کر بغاوت پر اُکساتے ہیں، اُن کے لیے بھی اچھی خبر نہیں ہے۔

 اہمیت دولت اور حکومت میں نہیں،اہمیت ذات پات میں نہیں،اہمیت انگلش اور اُردو تعلیم میں نہیں،اہمیت قبیلوں اور شاخوں میں نہیں،اہمیت رنگ و روپ میں نہیں،  کالے گورے میں نہیں —  اہمیت صرف اور صرف پرہیزگاری میں ہے۔ جو تقویٰ میں قریب، وہ بہرحال قریب۔ اَمیر ہے تب قریب، غریب ہے تب قریب، حاکم ہے تو قریب، محکوم ہے تو قریب  —بشرطیکہ تقویٰ ہو۔ اِس لیے ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ ایسے لوگ بھی آئے جو فقیر تھے اور سر پر تاج تھا۔ ایسے محرمِ راز بھی آئے جن کے پاس یادِ الٰہی تھی اور فاقہ تھا۔ ایسے لوگ بھی آئے جو اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ نثار کرتے رہے۔ جو اپنا قرضہ ادا کرکے گئے۔ ان لوگوں کا  مقام بلند و بالا ہے۔ انہوں نے اپنے خون سے کربلائیں سیراب کیں۔ انہوں نے کسمپرسیوں میں نبیؐ کی ذات پر سلام بھیجا۔ سلام تو وہ ہے کہ ’’اے بادِ صبا! آج خراماں خراماں چلو، آج ارض ِحرم میں جاؤ اور زین العابدینؑ    کا  اُس  روضے  پر  سلام کہو جس میں نبی محترمؐ ہیں“۔  سلام کا یہ انداز بس اُنہی کا حصہ ہے۔ ان لوگوں کی قربانیاں حصولِ ولایت کے لیے نہیں تھیں، وہ تسلیم و رضا کے لوگ، تسلیم و رضا ہی کے لیے رہے اور تسلیم و رضا ہی کے لیے رخصت ہوئے۔

اِس دنیا میں حق کا سفر کتنا آسان ہے، اِس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ بس صرف حق کو باطل کا لباس نہیں پہنانا اور جہاں حق بات کرنے کا وقت آ جائے،وہاں حق بات کو چھپانا نہیں۔ جو چیز اپنے لیے پسند کرتے ہو، وہی تمہارے بھائی کی ضرورت ہے، اُسے دو۔  بھائی کو تکلیف میں چھوڑ کر راحت کدے آباد کرنے والے اندازہ لگائیں اُس آدمی کی نادانیوں کا، جو اپنے بھائیوں کو دوزخ میں پہنچا کر جنّت میں جشن منانا چاہتا ہے۔ایسی جنت سے تو بہتر تھا کہ وہ بھائیوں کے پاس ہی رہتے یا  انہیں اپنے پاس بلاتے۔

 اللہ اپنے حبیبﷺ کی اُمّت پر عذاب تو نہیں ڈالے گا، لیکن درجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی اِس بات کا خیال رکھے کہ حضورِ اکرمﷺ کی اُمّت کا کوئی فرد پریشان نہ رہے۔ انسانوں کو خوش کرنے کی بجائے اپنے مولا کو خوش کیا جائے۔ صداقت ِ فکر کا ہونا بہت ضروری ہے، صداقت ِ عمل کے لیے۔ ہر انسان اپنے اپنے ماحول میں صادق ہو جائے تو حق کا جلوہ صداقت کے روپ میں ہر طرف جلوہ گر ہو جائے گا۔ کچھ کمی ہم ہی میں ہے  ورنہ وہ جلوہ تو  قدم قدم   ظاہر اور عیاں ہے۔

Pages: 1 2 3 4