یہ دنیا  اُس دنیا کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ ہم صرف اِس بات کے جواب دہ ہیں، جس سے ہم گزر رہے ہیں۔ ہم آسمان کے ستاروں کی چالوں کے بارے میں کبھی جواب دہ نہیں بنائے جائیں گے۔ ہم سے پوچھا جائے گا، ہمارے اعمال کے بارے میں۔ ہم سے پوچھا جائے گا، ہمارے معاملات کے بارے میں۔ ہم سے پوچھا جائے گا،اُن امانتوں کے بارے میں جن کے ہم اَمین تھے۔ ہم سے پوچھا جائے گا، اُن حقوق کے بارے میں جو ہم نے اَدا کرنے ہیں،اُن فرائض کے بارے میں جو ہمیں اَدا   کرنے چاہییں تھے۔

ہم سے اُسی حد میں سوال ہوں گے جو ہماری حد تھی۔ ایک اپاہج انسان سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اُس کے دوڑنے کی رفتار کیا تھی؟ صاحبانِ دل سے دل کی بات ہو گی، صاحبانِ فکر سے فکر کی بات ہو گی۔ جس آدمی کو قلم کی طاقت عطا کی گئی، اُس سے یہ پوچھا جائے گا کہ اُس نے اپنی تحریر کس سمت میں استعمال کی؟الفاظ کی نشست و برخاست اتنی اہم نہیں جتنے الفاظ کے مدعا اور معانی۔ تحریر گویائی   کی طرح ایک عظیم عطیہ ہے قدرت کا، اور اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ کتابوں میں لوگوں کو نفسانی آرزوؤں کے بارے میں برانگیخت کرنے والے مصنفین جواب دہ ہوں گے اور پھر اُنہیں افسوس ہوگا کہ انہوں نے  تقدیسِ الفاظ   کو پامال کیا اور حرمت ِ تحریر کو قائم نہ رکھا۔ الفاظ سے گمراہ کرنے والے عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔  وہ لوگ جو لذّت ِخطابت میں آکر لوگوں کو غلط راہ پر ڈال دیتے ہیں، اپنے لیے مصیبت مرتّب کر رہے ہیں۔ اِسی طرح سرمایہ دار اپنے مال کو جمع کرنے میں اور اسے گننے میں وقت گزار کر  اپنے لیے جو بربادی لکھ رہے ہیں، وہ آخرت میں ظاہر ہو کر رہے گی۔ دوسروں کا حق غصب کرنے والے، خواہ دنیا میں اُن کا کوئی گواہ نہ ہو، آخرت میں ظاہر کر دیے جائیں گے۔ آخرت ہوتا     ہی وہ وقت ہے جب چھپا ہوا ظاہر ہو جائے اور وہ وقت بہت دُور نہیں۔

ایک آشنا کو دوسرے آشنا سے آشنائی حاصل ہونا ضروری بھی نہیں۔ ایک صاحب ِ تعلّق کو دوسرے صاحب ِ تعلّق کے ساتھ تعلّق حاصل ہونا لازمی نہیں۔ ایک صاحب ِ اَسرار کا دوسرے صاحب ِ  اَسرار سے ہمراز ہونا قطعاً ضروری نہیں — کیونکہ اُس کے جلوے ہمہ رنگ ہیں اور یہ سارا نیرنگ اُسی کے رنگ سے ہے — اور وہ جلوۂ   ہفت رنگ  بے رنگ جلووں میں بھی نمایاں ہے۔ کسی کو کسی کی خبر نہ ہونے کے باوجود سارے ہی باخبر ہو سکتے ہیں —  اور یہ بات ذرا مشکل بات ہے۔

اگر ہم تاریخِ عالَم پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ایک پیغمبر کی زندگی، دوسرے پیغمبر کی زندگی سے مختلف بھی رہی ہے۔ کہیں کوئی صاحب ِ تعلّق لوہے کا کام کرتا ہے اور کسی کو گلہ بانی کا شوق ہوا۔ کسی کو طبّ   اور حکمت عطا ہوئی اور کسی کو بیماری کا تحفہ ملا۔ کسی نے ساری زندگی میں بہت مختصر بیان دیا اور کسی نے فصاحت کے جلوے دکھائے۔ حضرت یوسف ؑ  کو دعوت ِ گناہ ملی تو آپؑ نے فرمایا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ یہ اُسی کا ڈر ہے، حالانکہ اِن سات پردوں میں بند کواڑوں کے پیچھے ترغیب ِ گناہ کی موجودگی میں گناہ مشکل کام نہیں، لیکن اُس اللہ پر بھروسہ ہے،جو پردوں میں دیکھتا ہے، جو خاموشی کی زبان سنتا ہے، جو دُور رہ کر بھی قریب ہوتاہے،جو اِدراک سے پرے ہو کر شہ رگ سے قریب ہے۔ یہی نبی کی شان تھی اور یہی نبی کا عمل ہوا۔

اب غور طلب بات یہ ہے کہ ہر صاحب ِ تعلّق کو الگ الگ زندگی کیوں عطا ہوئی؟
یہ اِس لیے کہ رازقِ مطلق نے انسانوں کو حصولِ رزق کے لیے الگ الگ پیشوں میں رکھا۔  جہاں دولت سے نقصان پہنچنے کا امکان تھا، وہاں امیروں کو ضرورت سے زیادہ پیسہ رکھنے سے منع کیا     گیا۔ جہاں قومیں تلاشِ معاش میں گمراہ ہونے لگیں، اُن کو پیغمبر عطا کیے گئے۔ انہوں نے اُن کی صف بندی کی۔ انہیں ہدایت کے قریب لانے کی کوشش کی۔ آخری نبیؐ  کے آنے کے بعد مسلمانوں پر مراحل آسان کر دیے گئے کہ وہ شریعت کی پابندی کریں، معاملات کی اصلاح کریں اور ایک جامع تنظیم کے ماتحت اُمورِ مملکت چلائیں، جذبۂ جہاد زندہ رکھیں۔

Pages: 1 2 3 4