تکلیف دینا چھوڑ دو۔ بخش دو سب کو۔ اپنی بخشش طلب کرو۔ اُس کو پانے کے، ایک دین میں ہزاروں انداز ہو سکتے ہیں، اَدب شرط ہے۔ توبہ کر لی جائے تو ایک اچھے وقت کا آغاز ہو سکتا ہے۔ عمر سو کے گزاری ہے، اب بقیہ کم اَز کم بیدار رہنے کی تمنّا میں گزاری جائے۔کہتے ہیں کہ اگر صرف باوضو ہو کر انسان سو رہے تو نیند کا عرصہ بھی عبادت گنِا جائے گا۔ اُس کی تلاش میں پہلا قدم ہی آخری قدم ہے۔ کعبے کا ایک نام انسان کی پیشانی بھی ہے اور خدا کا ایک نام عاجز مسکین کا آنسو بھی ہے۔ بے بس کی آنکھ سے ٹپکنے والا آنسو کتنی عبادتوں پر فوقیت لے جاتا ہے۔ اپنا خدا اپنی ایمانداری سے آپ حاصل کرو۔ اپنے مالک کو اپنی صداقت سے اپنے دل میں پاؤ۔ اُس نے کہہ دیا ہے کہ میں تمہاری سانسوں میں ہوں۔
تم جہاں ہو، میں وہاں ہوں۔ اپنے آئینے میں جھانکو، یعنی اپنے دل میں جھانکو، میں وہاں ہوں گا — اور جس طرح آئینے کے سامنے جانے سے یہ معلوم ہوگا کہ جب ہم سامنے ہوں تو وہ عکس بن کر سامنے آ جاتا ہے، ہم آگے ہوں، وہ آگے آ جاتا ہے،ہم پیچھے ہٹ جائیں، وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے،ہم سامنے سے ہٹ جائیں تو وہ سامنے نہیں رہتا۔ اب یہاں یہ غور طلب بات ہے کہ جب ہم اُس کے قریب ہوتے ہیں — وہ اور قریب ہوتا ہے۔ ہم کیوں نہ اُس کے قریب تر ہو جائیں۔ اِس مقام پر ذاکر اور مذکور، ذکر میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ دونوں قریب اور دونوں جدا۔ وہ کہاں اور ہم کہاں! یہی مقام ہے اٗس کو پانے کا—!!
اُس کی یاد میں اپنے آپ کو بھول جاؤ۔ اُس کی تلاش میں اِردگرد سے بے نیاز ہو جاؤ۔ اُس کے حصول کی راہ میں کسی دشواری کو دشوار نہ کہو۔ وہ دُور ہے، لیکن وہ بڑا قریب ہے — بس ایسے ہی جیسے سورج، جو بہت دُور ہے لیکن دھوپ ہمارے بہت قریب ہے۔ اُس کا جلوہ ہی تو درکار ہے۔ ذات سے ذات کا وصال اِمکان سے باہر ہے۔ جلوے سے تلاش کا وصال ہو سکتا ہے۔ تم تلاش بنتے جاؤ— جلوہ خود ہی حاصلِ تلاش بن جائے گا۔