بہر حال یہ موسم خود ہی بدلتے ہیں۔ سفر کی تمنّا جب آرام کی خواہش میں بدل جائے تو سمجھ لیجیے کہ ایک نیا موسم آگیا— سکون کا موسم، آرام کا زمانہ، یادوں کے دن، گھر کے اندر، عبادت کے زمانے، نصیحتوں کا وقت، احتیاط کے ایّام، صحت کا خیال، زندگی کی کارگزاری کا حساب، کردہ اور    ناکردہ خطاؤں کی بازگشت—!

                اِنسان حیران ہو جاتا ہے کہ وہ اِتنا کیوں بدل گیا۔ دراصل عمر بدل جاتی ہے،خیال خود ہی بدل جاتا ہے— نہ جوانی ہمارا قصور ہے،نہ بُڑھاپا ہماری غلطی۔ یہ سب موسم زندگی کے اپنے موسم ہیں۔ اِن موسموں سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔

                پھر ایک موسم آتا ہے—  آخری پت جھڑ کا موسم۔ لاکھ کوشش کرو،ٹھہر نہیں سکتے۔  دیواریں قائم رہتی ہیں اور مکان اندر سے زمیں بوس ہو جاتا ہے۔ وجود کے اندر کچھ بھی تو موجود نہیں رہتا۔ کہاں گئے سب کرشمے،سب قویٰ،سب رنگ، کیا ہُوا!   اِس میں اِنسان کا کیا قصور؟ —  عظیم پہاڑ،سنگلاخ چٹانیں—ریت کا ڈھیر!!

                اِنسان احتیاط کرے تو بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ کیا اِنسان فصل کی طرح پیدا ہوتا ہے؟ —   مولی گاجر کی طرح!  موسم سے آیا اور موسم کے دَم سے زِندہ رہا،اور موسم کے ساتھ رخصت ہو گیا؟ کیا اِنسان کچھ بھی نہیں؟ کیا اِنسان اپنے ہونے میں بھی کچھ نہیں ہے؟ کیا انسان ریکارڈ شدہ کیسٹ کی طرح ہے؟ بس چلتا رہا اور پھر ختم ہو گیا؟ کیا سب کچھ کا تب ِ تقدیر کا ہے؟ اگر یہ سب کچھ اُس کا ہے تو پھر اِنسان کا کیا ہے؟

 اِنسان کو یہی بات تو مشکل معلوم ہوتی ہے۔ آزادی کیا ہے؟  آزادی کتنی ہے؟ مجبوری کیا ہے؟ مجبوری کس حدتک ہے؟

Pages: 1 2 3 4 5