دانا کیسے بنتاہے،کامیابی کیسے آتی ہے،سکون کہاں سے ملتا ہے،خوشی کہاں سے نازل ہوتی ہے،راز کِدھر سے دریافت ہوتا ہے؟— بس ایسے ہی،جیسے اِنسان بنتا ہے۔ اِنسان کا پیدا ہونا ہی اُس کے نصیب کے پیدا ہونے کے ساتھ ہے۔
کبھی کبھی نیکی بھی ایسے آتی ہے جیسے بارش۔ کبھی کبھی بُرائی ایک راستے کی طرح پاؤں کے نیچے آجاتی ہے۔ رات سے دِن اور دِن سے رات،عزّت ذِلّت،تعیناتی اور معزولی ہوتی ہی رہتی ہے۔
ہم جس پیشے میں آج معزز ہیں،یہ بھی کسی اور رُخ میں ناکامی کا نتیجہ ہے۔ ہم ایک شعبے میں سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں اور جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اور بھی شعبے ہیں دریافت کرنے والے،تو ہم اُلجھ جاتے ہیں اور یہ اُلجھاؤ خرد کی گُتھیاں کہلاتا ہے۔ وجدان اور جنون
نہ ہوں تو گُتھیاں نہیں سلجھتیں۔ مقصد ِحیات، عملِ حیات سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ راز ِہستی،رونق ِ ہستی کے علاوہ بھی ہو سکتا ہے۔ نصیب اور کوشش یکجا بھی ہو سکتے ہیں اور الگ الگ بھی۔ اِنسان اور مقدّر کی صلح بھی ہو سکتی ہے۔ کارزارِ حیات، گلزارِ حیات میں بھی بدل سکتا ہے۔ اگر پیدا ہونے اور مرنے کا اِختیار انسان کو مل جائے تو زندگی بنانے کا اختیار اُس کا اپنا ہے۔ اگر دُنیا کی رونقوں میں میرے ہونے اور نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو مجھے رونقوں سے کیا حاصل؟
میری اولاد نہ میرے منصب پر فائز ہو سکتی ہے،نہ میرے علم کی وارث— نہ اُس کا خیال مجھ جیسا،نہ اُس کا عمل میرے عمل کے برابر۔ میری اولاد مجھ سے اجنبی ہی رہتی ہے۔ پھر بھی اِس اولاد کے لیے میں کیا کیا جتن کرتا ہوں۔ کہاں کہاں سے کیسے کیسے گزرتا ہوں، کس کے لیے؟ بے حِس کے لیے؟ میں نے جس کے لیے بھی جو کیا،اُسے اِس کا اِحساس نہیں۔ پھر میری زندگی کا مقصد وہ تو نہ ہوا،جو میں نے سمجھا،جو میں نے بنایا۔ میری محنت میرے کام نہ آئی۔ دوسروں کے کیا کام آئی ہو گی۔ پھر بھی میرا دعویٰ ہے کہ میں ہی صحیح ہوں، میرا پیشہ ہی صحیح ہے۔ میری کارروائیاں اور میرے کارنامے ہی عجائبات ِزمانہ میں سے ہیں، لیکن مجھے کون بتائے کہ ایسا نہیں ہے۔ میں کسی کی سنتا نہیں، کسی کی مانتا نہیں— پھر وہ دن آپہنچتا ہے جب میرے اعمال اپنے نتیجے سے گزر کر میرے سامنے آتے ہیں۔ اپنا اصل چہرہ جب اپنے رُوبرو آتا ہے تو سب دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔
ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم وہ نہیں تھے جو ہم بنے ہوئے تھے۔ ہم بہروپ کے سروپ میں گم تھے۔ ہم تعریف سُننے کے لیے جھوٹے مداحوں کو اکٹھا کرتے ہیں اور جب راز آشنا مل جاتا ہے تو ہم حیرت میں گم ہو جاتے ہیں۔ حیرت میں گم ہونا ہی راز کے سُراغ کا نقش ِ اوّل ہے۔ حیرت میں گم ہونا،اپنے آپ میں گم ہونا ہے۔ جو اپنے آپ میں گم ہو گیا،اُس نے اپنا آپ دریافت کر لیا۔ جس نے اپنا آپ دریافت کر لیا اُس نے راز دریافت کر لیا۔ راز کو دریافت کیا جاتا ہے،بتایا اور پوچھا نہیں جاتا۔ جس کو راز مل گیا،اُس نے زندگی میں موت اور موت میں زندگی کو دیکھ لیا۔ قطرہ قلزم آشنا نہ ہو تو قرار کیسے پائے۔ اپنے ہونے کا مقصد اپنے نہ ہونے سے پہلے ہی دریافت کر لیا جائے۔ کم ازکم اِتنا تو جان لیا جائے کہ مجھ میں میرا اپنا عمل کس حد تک ہے، اور کسی اور طاقت کا عمل کس حد تک! وہ طاقت اگر مقدّر یا نصیب ہی ہو،تو کیا حرج ہے!حُسن ِ تدبیر ہی اگر حُسن ِ تقدیر ہو جائے،تو کیا بات ہے!!