اگر موسم بدل جائے تو خیال بدل جاتا ہے۔ شاعروں نے گھنگھور گھٹاؤں کو توبہ شکن کہا ہے۔ سورج سر پر ہو تو سجدہ بھی رَوا نہیں۔ یہ عجب بات ہے کہ اِنسان کی عبادت اوقات کے ساتھ ہے۔ نماز قائم کرنے کا حکم ہے اور اِس کے اوقات مقرر ہیں۔ اِن اوقات کے باہر یا بعد نماز کی اِجازت ہی نہیں۔ فجر کی نماز فجر ہی کو ادا کی جاتی ہے۔ ہمہ حال ایک حال میں رہنے کا عمل اِس لیے مشکل ہے کہ کائنات کی کوئی چیز ہمیشہ ایک حالت میں نہیں رہ سکتی۔
اِنسان ہمیشہ بدلتا رہتا ہے اور وہ ہمیشہ ایک سا ہی رہتا ہے۔ صحت خراب ہو تو کوئی موسم بھی خوشگوار نہیں اور صحت خوشگوار ہو تو کوئی موسم خراب نہیں ہوتا۔
بُرے اِنسان کو ہر وقت بُرائی کا موقع مل جاتا ہے۔ اچھے کو اچھائی میسر آ ہی جاتی ہے۔ ایمان والے ہر حال میں ایمان پر قائم رہتے ہیں۔ کافر ہر لمحہ اپنے کفر پر کار بند رہتا ہے۔ وعدہ شکن کوئی بھی تو وعدہ پورا نہیں کرتا۔ بے وفا،وفا کے بدلے میں ہی تو بے وفائیاں کرتا ہے۔ محبّت والے محبّت کرتے رہتے ہیں۔ اہلِ دِل حضرات ذرّے ذرّے میں دھڑکنیں محسوس کرتے ہیں اور پتھر دِل اِنسانوں کو اِحساس کی دولت سے محروم ہونے کا بھی اِحساس نہیں ہوتا۔ کل کے دعوے آج کی معذرت بن جاتے ہیں۔ سیاست ہمیشہ میدان میں رہتی ہے اور حکومت ایوان میں۔ غریبوں کی حالت بدلنے کا دعویٰ کرنے والے خود غریبی کے ذائقے سے نا آشنا ہوتے ہیں۔
اِنسان عجب مخلوق ہے۔ خود تماشا ہے اور خود ہی تماشائی۔ اِنسان خود ہی میلہ لگاتا ہے اور خود ہی میلہ دیکھنے نکلتا ہے۔ ہجوم میں ہر اِنسان ہجوم کا حصّہ ہے اور ہر اِنسان اپنے علاوہ اِنسانوں کو ہجوم کہتا ہے۔ تنہائیاں اِکھٹی ہو جائیں تو میلے بن جاتے ہیں۔ ننھے چراغ مل کر چراغاں بن جاتے ہیں۔
ایک زندگی کتنے اَدوار سے گزرتی ہے،اِس کا اندازہ لگانا بڑا مشکل ہے۔ بچپن کے کھیل،بچپن کے کھلونے،بچپن کے ساتھی ،چند دنوں کی بات ہے۔ دن گزر گئے۔ کھیل ختم ہو گئے۔ بچّہ بھول گیا کہ اُس نے کون کون سے کھیل کھیلے۔ کون کون سی آرزوئیں اور تمنّائیں تھیں،بچپن میں۔ بس وہ دن گئے اور وہ باتیں بھی گئیں۔