اِنسان کو عقل دی گئی۔ عقل کا اِستعمال بھی ضروری ہے،لیکن یہ بھی یاد رہے کہ کم عقل یا بے عقل اِنسان بھی عقل کا استعمال کرتا ہے۔ اِس دنیا کی رونقیں عقل کے دَم سے ہیں۔ عقل نے انسان کو ستاروں کی بلندیوں تک پہنچایا ہے،لیکن ستاروں کی گزرگاہوں کو ڈھونڈنے والا اِنسان یہ نہ معلوم کر سکا کہ زِندگی کا راز کیا ہے!
زِندگی رونقوں میں گزرتی ہے اور راز تنہائیوں میں ملتے ہیں۔ راز بتائے نہیں جاتے، رازِ آگہی یا رازِ آشنائی کا راستہ دکھایا جاتا ہے۔ اِجتماع کا راز اور ہے اور انسان کا راز اور! اِجتماع ضرورت کے راز میں مبتلا رہتا ہے۔ ضرورتیں پوری کرنا، اِجتماعی مسائل کا حل سوچنا، شہر بنانا، شہری زِندگی کی آسائشوں کا خیال رکھنا، صحت کے لیے شفا خانوں کا انتظام، تعلیم کے لیے سکول کالج بنانا، پانی کا حصول اور پانی کا نکاس، سڑکوں، روشنیوں اور دفتروں کا اہتمام، نیز اخبار، ریڈیو، ٹی وی وغیرہ یہ سب اِجتماعی ضرورت کی باتیں ہیں۔ سفر وغیرہ کی سہولتیں ہر بامعنی معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
اِجتماع اِس بات سے بے خبر اور بے نیاز ہوتا ہے کہ کسی شہر کی ساٹھ لاکھ کی آبادی ساٹھ سال میں مکمل طور پر ختم ہو چکی ہوتی ہے اور اُس کی جگہ نئے لوگ اُتنی بلکہ اُس سے بھی زیادہ تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ شہروہی رہتے ہیں،شہری بدل جاتے ہیں۔ ہمارے زمانے کے کلاس رُوم آج بھی طلبہ سے بھرے ہوتے ہیں،لیکن ہمارے ساتھ پڑھنے والے لوگ ایک ایک کر کے رخصت ہوتے جاتے ہیں،یعنی دُنیا آباد رہتی ہے اور لوگ ختم ہوتے رہتے ہیں۔ ہم زندہ رہیں تو بھی کچھ عرصہ کے بعد ہم محسوس کرتے ہیں کہ نا آشنا لوگوں میں ہیں۔ آشنا بکھر جاتے ہیں اور نا آشنا موجود پائے جاتے ہیں۔ مل کر رہنے والے الگ الگ رخصت ہوتے ہیں۔ ہسپتال اپنی اہمیت اور افادیّت کے سہارے قائم رہتے ہیں اور ڈاکٹر مریضوں کی جان بچاتے بچاتے خود ہی کسی دن جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اِس سے مَفر نہیں۔
جب جانا لازم ٹھہرا تو ٹھہرنے کے لیے کیا لازم ہے؟ جب سامان لَد ہی جانا ہے تو کتنا سامان درکار ہے؟
اِنسان علم حاصل کرتا ہے،دانائی کا علم۔ دانا لوگوں کی باتیں پڑھتا ہے۔ رُوحانی اور دُنیاوی زندگی کے سپہ سالاروں اور شہسواروں کی زندگی اور اُن کے علوم کی داستانیں،اُن کے ہم عصر اور ہم نواؤں کی گواہی کے قصے پڑھتا ہے تو اِنسان یہ بھول جاتا ہے کہ دانائی کتاب سے حاصل نہیں ہوتی۔ دانا کی زندگی کا علم دانائی نہیں،دانا کی زندگی کا عمل دانائی ہے۔ مثلاً ریت کے تپتے ہوئے صحرا میں عظیم انسانؐ کا دیا ہُوا خطبہ،دانائی کا شہکار خطبہ،اگر ہم کسی ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر پڑھیں تو ہمیں کتنا فیض ملے گا۔ عمل،عمل کے تابع نہ ہو تو علم،علم کے مطابق نہیں رہتا۔ راز کی بات تو یہ ہے کہ راز جاننے والے کا عمل ہی راز آشنائی کا ذریعہ ہے۔