یہ ایک گہرا راز ہے کہ ہر شے دراصل ایک ہی شے ہے۔ یہ سب کائنات ایک ہی کائنات ہے۔ سب صنعت ایک ہی صانع کا  اظہار ہے۔ ہر شے ہر دوسری شے کا آئینہ ہے۔ رات سورج ہی کے ایک انداز کا نام ہے۔ دُوری کسی قرب کے حوالے سے ہے۔ فراق اور وصال ایک ہی محبوب کی عطا ہے۔ اگر چیزوں کو اُن کے اصل کے حوالے سے پہچانا جائے تو ہر شے ایک ہی شے ہے۔ ہر انسان ہر دوسرے انسان کا عکس ہے۔ طاقتور انسان کمزور انسانوں کی عنایت کا نام ہے۔ ڈاکٹر مریض کے اور مریض   ڈاکٹروں کے روپ ہی ہیں۔ ہر فراوانی، ہر احتیاج کے دَم سے ہے اور ہر محرومی، ہر حاصل کے دَم سے ہے۔ نیکی،بدی کے حوالے سے اور بدی، نیکی کے دَم سے۔ جو ایک نہ ہو سکا، اُ سے دوسرا بننا پڑا۔ جو یہ نہ بن سکا، اسے وہ بننا پڑا — ہر فراز، ہر پستی کا دوسرا نام ہے اور شکست کی تاریخ فتح کی تاریخ ہے۔ اگر مَیں ”مَیں“ نہ ہوتا —  تو   ” تُو“ کیسے ”   تُو“ ہو جاتا! اَزل نہ ہو تو ابد کیا! آغاز ہے تو انجام ہے، نہیں تو نہیں۔ جس کا آغاز نہ ہوا، اُس کا انجام بھی نہ ہوا۔ جو ہر آغاز سے قبل ہوا، وہ ہر انجام کے بعد بھی رہے گا۔

چیزوں کے آپس میں رشتے بڑے مضبوط اور مربوط ہیں۔ محبّت  اور نفرت ایک ہی جذبہ ہے۔ پسند کے باطن میں ناپسند کا  ہونا ناگزیر ہے۔ ہم دوستوں کے دوستوں کو دوست سمجھتے ہیں اور اُن کے دشمن کو  دشمن، حالانکہ ہمارا اُن سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔

یہ عجب بات ہے کہ قہقہے اور آنسو ایک ہی کہانی ہے۔ ایک ہی مسافر ہنستا جا رہا ہے اور وہی مسافر روتا جا رہا ہے۔ ایک ہی گھر میں شادیانے بھی بجتے ہیں اور انہی انسانوں کے حوالے سے ماتم بھی ہوتا ہے۔ قہقہے، آنسو ایک ہی کہانی ہے۔ جو ایک نے کھویا، اسے دوسرے نے پایا، اور عجب بات ہے کہ جسے ایک تلاش کرتا ہے، دوسرا  اُسی سے نجات چاہتا ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5